مجتہدانہ اسلوبِ دعوت
الرسالہ، جون ۲۰۱۹، صفحہ ۸
نے اپنے گہرے ذاتی مطالعے سے اسلام کو سمجھا اور اس کو قبول کیا۔ ان کا واقعہ میں نے اپنی کتاب (Islam Rediscovered) میں نقل کیا ہے۔
پچھلی صدیوں میں اور موجودہ زمانے میں بڑی تعداد میں لوگ اسلام کے دائرے میں داخل ہوئے ۔ مگر یہ لوگ اسلام کی جدید تاریخ بنانے کا باعث نہ ہو سکے۔ مسلمانوں کی جدید نسلوں کا سفر بدستور زوال کی طرف جاری رہا۔ اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ یہ تمام نو مسلم ردِ عمل کی نفسیات کے تحت اسلام میں داخل ہوئے۔ مثال کے طور پر ڈاکٹر بی آر امبیڈکر اعلیٰ ذہنی صلاحیت کے آدمی تھے۔ وہ اسلام قبول کرنا چاہتے تھے۔ لیکن مہاتما گاندھی اور دوسرے ہندو لیڈروں کی مداخلت سے ایسا نہ ہوسکا۔ تاہم اگر وہ اسلام قبول کرتے تو مجھے امید نہیں کہ ان کا قبولِ اسلام مثبت معنوں میں کسی جدید اسلامی تاریخ کے آغاز کا سبب بن سکتا تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام کی طرف ان کا میلان برہمنزم کے خلاف ردِعمل کے تحت ہوا تھا۔ ایسی حالت میں اگر وہ اسلام قبول کر لیتے تب بھی صرف یہ ہوتا کہ وہ اسلام کے اسٹیج سے برہمنزم کے خلاف ایک محاذ کھول دیتے۔ مثبت معنوں میں وہ اسلام کی کوئی انقلابی خدمت نہ کر پاتے۔ جیسا کہ بدھرم کو قبول کرنے کے بعد اُنھوں نے کیا۔ اس معاملے کی ایک مثال وہ تعلیم یافتہ نو مسلم افراد ہیں جنھوں نے موجودہ زمانہ میں اسلام قبول کیا ہے۔ میرے علم کے مطابق ، یہ سب کے سب ردِعمل کی نفسیات کے تحت اسلام کی طرف آئے ۔ اس لیے وہ مثبت معنوں میں اسلام کی جدید تاریخ بنانے کا ذریعہ نہ بن سکے ۔ ان میں سے کوئی مسلمانوں کے کسی کمیونٹی ورک میں لگا ہوا ہے ، اور کوئی مفروضہ مسلم دشمنوں کے خلاف تقریر کر رہا ہے۔ موجودہ زمانے کے معروف نو مسلموں میں سے اکثر کو یا تو میں نے سنا ہے یا پڑھا ہے یا ان سے ملاقات کی ہے۔ مگر میرے تجربے کے مطابق ، یہ سب لوگ کسی نہ کسی طور پر ردعمل کی نفسیات کے تحت اسلام کی طرف آئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قبولِ اسلام کے بعد بھی ان کے سینے میں غیر قوموں کے خلاف کدورتیں ختم نہیں ہوئیں۔ وہ اب بھی ردِعمل کی بولی بول رہے ہیں۔ مثلاً امریکا کے حمزہ یوسف اور سراج وھّاج، جرمنی کے مراد ہاف مین، برطانیہ کے یوسف اسلام،
‹ Previous page Next page › Contents of June 2019 All issues