مجتہدانہ اسلوبِ دعوت
الرسالہ، جون ۲۰۱۹، صفحہ ۱۱
عمل سرے سے وجود ہی میں نہ آسکا۔ کچھ مسلمان یا مسلم جماعتیں بظاہر دعوت کے نام پر سرگرم ہیں، مگر یقینی طور پر وہ دعوت الی اللہ کا عمل نہیں۔ یہ لوگ اصلاً کوئی اور کام کر رہے ہیں جس کا دعوت الی اللہ سے کوئی تعلق نہیں ہے اور اس کو انہوں نے دعوت کا عنوان دے دیا ہے۔
مسلمانوں کی موجودہ مَاریخ کا دعوت الی اللہ سے خالی ہونا کوئی سادہ بات نہیں۔ اس کے اسباب نہایت گہرے ہیں۔ اصل یہ ہے کہ بعد کے زمانے میں قرآن کی جو تفسیریں لکھی گئیں، یا جو اسلامی لٹریچر تیار ہوا، ان میں دعوت الی اللہ کو سرے سے حذف کر دیا گیا۔ دعوت الی اللہ کیا ہے اور اس کے لازمی اجزاء کیا ہیں، یہ قرآن میں نہایت واضح طور پر موجود ہے۔ مگر بعد کے زمانے میں جو تفسیریں لکھی گئیں ان میں یہ سب چیزیں یا تو منسوخ کر دی گئیں یا ان کی تفسیر درست طور پر نہ ہوسکی۔ مثلاً دعوت کے لیے ضروری ہے کہ داعی دوسرے لوگوں کو اپنی قوم سمجھے، جیسا کہ قرآن کے بیان کے مطابق پیغمبروں نے سمجھا۔ مگر بعد کے زمانے میں دوسرے گروہوں کو کافر قرار دے کر انہیں غیر قوم کے خانے میں ڈال دیا گیا۔ اسی طرح دعوت کے لیے ضروری ہے کہ مدعو کی زیادتیوں پر یک طرفہ صبر کیا جائے ۔ مگر تفسیروں میں صبر کے حکم کو جہاد سے پہلے کے دور کی چیز قرار دے دیا گیا۔ اسی طرح دعوت کے لیے تالیف قلب لازمی طور پر ضروری ہے۔ مگر بعد کی تفسیروں میں تالیف قلب کے اصول کو ہمیشہ کے لیے منسوخ قرار دے دیا گیا۔ دعوت کے لیے ضروری ہے کہ اس کو تا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرِ (الشعراء، 26:109) کے اصول پر چلایا جائے، یعنی میں تم سے اس دعوتی عمل پر کوئی اجر نہیں مانگتا ہوں۔ مگر موجودہ زمانے میں دعوت کے ساتھ ملی حقوق کی مطالبا تی مہم کو جوڑ دیا گیا، وغیرہ۔ شکایتی اور احتجاجی باتیں قاتل دعوت ہیں، نہ کہ معاون دعوت۔ دعوت الی اللہ کے لیے قرآن کی شرطوں کو ملحوظ ر کھے بغیر دعوت کا کام کرنا ایک مضحکہ خیز عمل ہے۔ اس کو دعوت الی اللہ کا مقدس نام ہر گز نہیں دیا جا سکتا۔ اس صورت حال کو بدلنے کے لیے ضروری ہے کہ مقلدانہ ذہن کو توڑ کر مجتہدانہ ذہن کے تحت سوچا جائے۔ اس کے بغیر دعوت الی اللہ کا عمل کبھی زندہ نہیں ہوسکتا۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2019 All issues