مجتہدانہ اسلوبِ دعوت
الرسالہ، جون ۲۰۱۹، صفحہ ۱۰
کوئی تفسیر ابھی تک لکھی نہیں گئی۔
میں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ قرآن کی ایک آیت ہے: كُلَّمَا أَوْقَدُوا نَارًا لِلْحَرْبِ أَطْفَأَهَا اللَّهُ (5:64) ۔ یعنی جب کبھی وہ لڑائی کی آگ بھڑکاتے ہیں تو اللہ اس کو بجھا دیتا ہے۔ اس آیت میں جو بات کہی گئی ہے وہ جدید امن پسند طبقے کے لیے بے حد پر کشش ہے، مگر کسی بھی عربی یا اردو یا انگریزی تفسیر میں اس کی معنویت کو کھولا نہیں گیا ہے۔ عام طور پر اس آیت میں قدیم یہود کے معاملہ کو بتایا جاتا ہے۔ گویا کہ تمام مفسرین اس آیت کو زمانی مفہوم میں لے رہے ہیں۔ اس طرح یہ آیت بظاہر قدیم زمانے کی ایک گزری ہوئی داستان بن کر رہ گئی ہے۔ نتیجہ یہ خود قرآن بھی غیر جانب دار قاری کو زمانے ماضی کا ایک قصہ معلوم ہوتا ہے جس میں آج کے لیے کوئی رہنمائی موجود نہ ہو۔ قرآن کو سمجھنے کے لیے ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ اس میں جو بات قدیم ریفرنس میں کہی گئی ہے، اس کو آج کا ایک مفسر جدید حوالے (modern context) میں دیکھ سکے، وہ اس آیت کا نیا انطباق (reapplication) دریافت کر سکے۔ اس اعتبار سے غور کیجیے تو قرآن کی مذکورہ آیت میں ایک ابدی اصول بتایا گیا ہے۔ وہ یہ کہ اہلِ اسلام کی پالیسی یہ ہونا چاہئے کہ دوسرے لوگ جنگ چھیڑیں تو وہ حسن تدبیر سے اس کو اوائڈ کرنے کی کوشش کریں، نہ یہ کہ خود بھی جنگ میں الجھ جائیں: Muslims must adopt the policy of avoiding war rather than of indulging in war. موجودہ زمانے میں ہم دیکھتے ہیں کہ مسلم اور نو مسلم دونوں کے درمیان کمیونٹی کاز (community cause) کی دھوم ہے۔ مگر ان میں سے کوئی بھی حقیقی معنوں میں ڈوائن کاز (divine cause) کے لیے تڑپنے والا ، اس کے لیے کام کرنے والا نظر نہیں آتا۔ حتی کہ ہزاروں کتابیں ہر جگہ چھپ رہی ہیں، مگر میرے علم کے مطابق، کوئی بھی کتاب انسانیت عامہ کو موثر انداز میں خطاب کرنے والی نہیں۔
موجودہ زمانے کا سب سے زیادہ اندوہناک واقعہ یہ ہے کہ مسلمانوں میں دعوت الی اللہ کا
‹ Previous page Next page › Contents of June 2019 All issues