جہاد کبیر
الرسالہ، جون ۲۰۱۹، صفحہ ۱۳
جہاد کبیر
سوئٹزرلینڈ کے سفر میں 26 جولائی 2001 کی صبح کو ناشتہ پر ایک صاحب سے گفتگو ہوئی۔ میں نے کہا کہ قرآن میں پیغمبر کو حکم دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ : وَجَاهِدْهُمْ بِهِ جِهَادًا كَبِيرًا (25:52)۔ اس آیت کا ترجمہ یہ ہے کہ تم ان کے ساتھ قرآن کے ذریعہ جہاد کبیر کرو۔ ظاہر ہے کہ جہاد کبیر کے لیے قوت کبیر درکار ہے۔ آپ کسی سے یہ فہمیں کہہ سکتے کہ تم پنسل کے ذریعہ بڑی لڑائی کرو۔ اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ اللہ کی نظر میں قرآن خود ایک بڑی طاقت ہے۔ گویا اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ بڑا جہاد کرو بڑی طاقت کے ذریعہ جیسا کہ قرآن ہے:
Do great jihad with the great power of the Quran. اس سے مزید یہ نکلتا ہے کہ نظریہ کی طاقت تمام طاقتوں سے زیادہ بڑی طاقت ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو قرآن کے ذریعہ جہاد کبیر کا حکم دینے کا کوئی مطلب نہیں۔ میں نے مزید کہا کہ یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ نظریاتی طاقت سیاسی طاقت سے بہت زیادہ بڑی ہے:
Ideological power is greater than political power. نیار جہان 27 جولائی 2001 کی شام کو کھانے کی میز پر ایک عیسائی پادری سے ملاقات ہوئی۔ ان کا نام رائے من پانیکر(Raimon (Raimon Panikkar) تھا۔ ان کی عمر 83 سال ہو چکی ہے۔ وہ اسپین میں بارسلونا کے پاس ٹیورٹٹ (Tavertet) کے مقام پر رہتے ہیں۔ وہ صوفی اسلام سے متاثر ہیں۔ ان سے میں نے پوچھا کہ اسپین میں اسلام کے بارے میں کس قسم کی رائے پائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ غلط نہی کا شکار ہیں۔ میں نے کہا کہ کس قسم کی غلط فہمی انہوں نے کہا کہ میڈیا میں پر تشدد جہاد کی جو خبریں آتی ہیں، ان کو وہ پسند نہیں کرتے۔ میں نے کہا کہ جہاد کے نام پر تشدد کی تحریکیں مسلمانوں کی قومی تحریک ہیں، وہ اسلام کی تعلیم کا نتیجہ نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان سب کے باوجود اسپین میں بہت سے لوگ اسلام قبول کر رہے ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2019 All issues