جہاد کبیر
الرسالہ، جون ۲۰۱۹، صفحہ ۱۵
انہوں نے بتایا کہ خاص طور پر جہاد کے بارے میں۔ اس کی وجہ سے عام طور پر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اسلام تشدد کا مذہب ہے۔ میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ میں سب سے بڑا جہاد یہ ہے کہ اسلام کے بارے میں غلط فہمی کو دور کیا جائے۔ یہ کام دو طریقوں سے کیا جانا چاہیے ایک یہ کہ اسلام کو اس کی صحیح صورت میں پیش کیا جائے اور دوسرے یہ کہ مسلمان اپنی ان متشددانہ کارروائیوں کو بند کر دیں، جو وہ اسلامی جہاد کے نام پر کر رہے ہیں۔ (ماہنامہ الرساله، سفرنامہ سوئزرلینڈ، مارچ 2002) آفاقی سوچ بھوپال کے سفر (نومبر 2001) میں مسٹر راجیندر سنگھ نے ایک ملاقات میں کہا کہ اگر آج کے مسلمانوں کا ذہنی کینواس (canvas) بڑا ہو جائے تو کوئی ان کی ترقی کو روک نہیں سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج کل کے مسلمانوں کا مزاج یہ ہے کہ تھوڑی معلومات کے باوجود وہ اسلام کی بات کرتے ہوئے مدعیانہ انداز میں بولنے لگتے ہیں۔ وہ اپنے خیال میں اتنا گم رہتے ہیں کہ ان کو یہ احساس نہیں ہوتا کہ سننے والے پر ان کے اس انداز کا الٹا اثر پڑے گا۔
میرے نزدیک یہ بات بالکل درست ہے۔ اسلام ایک آفاقی مذہب ہے۔ وہ اپنے ماننے والوں کے اندر آفاقی ذہن بناتا ہے۔ مگر آج کل کے مسلمان اپنی زوال یافتہ نفسیات کی بنا پر تنگ نظری کا شکار ہو گئے ہیں۔ وہ خود اپنی بنائی ہوئی دنیا میں جیتے ہیں۔ انہیں اپنے سے باہر کی دنیا کی کوئی خبر نہیں۔ مسلمانوں کا یہی مزاج ، موجودہ زمانہ میں اسلام کی بدنامی کا سبب ہے، نہ کہ اسلام کی اصولی تعلیمات۔ اسلام کے اشاعتی سیلاب کو جس چیز نے روک دیا ہے، وہ مسلمانوں کا یہی غیر آفاقی مزاج ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی تحریروں اور تقریروں سے ایسا اندازہ ہوتا ہے کہ صرف ان کی اپنی کمیونٹی ہی ان کا کنسرن (concern) ہے، وسیع تر انسانیت ان کا کنسرن ہی نہیں۔ فتوی یادعوت بھوپال کے سفر میں مولانا اختر قاسمی نے پوچھا کہ فتویٰ کی شرعی حیثیت کیا ہے۔ موجودہ زمانہ میں طرح طرح کے فتوے جاری کیے جاتے ہیں جن میں لوگوں کو یہ ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ ایسا
‹ Previous page Next page › Contents of June 2019 All issues