Al-Risala · June 2019 · page 19

ماتھے تلک ہاتھ مَلبانا لوگن رام کھلونا جانا

الرسالہ، جون ۲۰۱۹، صفحہ ۱۹

نے محدود طور پر اصلاح کی کوششیں کیں۔ مثلاً کبیر نے اس سلسلہ میں بہت سی باتیں کہیں۔ ان کا ایک شعر یہ ہے :

ماتھے تلک ہاتھ مَلبانا لوگن رام کھلونا جانا

آریہ سماج کی تحریک بھی اسی نوعیت کی ایک ادھوری تحریک تھی۔ گرو نانک کی تحریک اپنی اصل نوعیت کے اعتبار سے غیر خداؤں کی پرستش کے بجائے ایک خدا کی پرستش کا پیغام تھا۔ اقبال نے گرو نانک کے بارے میں یہ شعر کہا تھا :

نانک نے جس چمن میں وحدت کا گیت گایا میرا وطن وہی ہے میرا وطن وہی ہے مسلمانوں کے پاس محفوظ آسمانی کتاب کی صورت میں کامل سچائی موجود تھی، مگر مسلمان برادرانِ وطن کی اصلاح کے لیے کچھ نہ کر سکے۔ رشی کیش میں گفتگو کے دوران بہت سے ہندوؤں نے مجھ سے اسلام کے مطالعہ کی خواہش ظاہر کی۔ میں سمجھتا ہوں کہ کسی حقیقی اصلاحی کوشش کے لیے گہری خیر خواہی درکار ہوتی ہے۔ وہ خیر خواہی جو شکایتوں کے باوجود نہ ٹوٹے، بیٹے کے ساتھ ماں کی محبت کی طرح جو ہر حال میں قائم رہے۔ بدقسمتی سے مسلمانوں کے اندر برادرانِ وطن کے لیے اس قسم کی خیر خواہی موجود نہ تھی۔ مسلم سلطنت کے دور میں وہ ہندوؤں کو کمتر سمجھتے رہے، اور 1947 کے بعد وہ ہندوؤں سے اپنے سینہ میں نفرت اور شکایت لیے ہوئے ہیں، اور جو لوگ اس طرح کی نفسیات میں مبتلا ہوں وہ کبھی اصلاح و دعوت کا کوئی گہرا کام نہیں کر سکتے۔

1947 سے پہلے کے دور میں مسلم صوفیوں نے ضرور کچھ مفید کام کیے، مگر جہاں تک مسلم علماء کا تعلق ہے، وہ اس سلسلہ میں کوئی قابل قدر خدمت انجام نہ دے سکے۔ کچھ لوگوں نے ہندوستان کو دار الحرب بتا کر مسلمانوں کے اندر منفی نفسیات پیدا کی۔ کچھ لوگوں نے ہندوؤں کے "مسلم ملچھ‘‘ کے تصور کا مقابلہ کرنے کے لیے ہندو کافر کا نظریہ پھیلایا۔ کچھ لوگوں نے بت شکنی کے نام پر ایسے کام کیے جو اپنے نتیجہ کے اعتبار سے صرف دل شکنی کے ہم معنی تھے۔

مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ ساری مسلم دنیا میں کوئی بھی عالم یا غیر عالم نہیں جو

‹ Previous page Next page › Contents of June 2019 All issues

Printed page