Al-Risala · June 2019 · page 20

جنت کی ضرورت

الرسالہ، جون ۲۰۱۹، صفحہ ۲۰

ان مسلم رہنماؤں سے یہ کہے کہ تم اپنی قومی لڑائی کو انتہائی نا عاقبت اندیشانہ طور پر یہ مجرمانہ رنگ دے رہے ہو کہ ہندوؤں کی مسلم نفرت یا اسلام نفرت اس حد تک بڑھ جائے کہ وہ معتدل ذہن کے ساتھ اسلام کے پیغام کو سننے کے قابل ہی نہ رہیں۔ مجھے یاد آتا ہے کہ میرے بچپن کے زمانہ میں کچھ علماء نے "تبلیغ" کے نام پر مناظرہ بازی کی مہم شروع کر رکھی تھی۔ حالانکہ اس قسم کی مہم کو تبلیغ کے بجائے اینٹی تبلیغ کہنا زیادہ صحیح ہوگا۔

مثلاً ایک مناظر عالم کو جوش آیا۔ انہوں نے ایک کتاب تیار کی جس کا نام انہوں نے "کفر توڑ رکھا۔ اس کے جواب میں ایک ہندو مناظر نے کتاب شائع کی جس کا نام تھا "کفر توڑ کا بھانڈا پھوڑ"۔ یہ وہ زمانہ تھا جب کہ اردو زبان عمومی طور پر ہندو اور مسلمان دونوں کی مشترک زبان تھی۔ گویا داعی اور مدعو کے درمیان وہ لسانی بعد (language gap) موجود نہ تھا جو آج پایا جاتا ہے۔ مگر اس سنہری زمانہ کو خیر خواہانہ دعوت کے بجائے مناظرہ بازی کے لیے استعمال کیا گیا، جس کا نقصان صرف یہ ہو سکتا تھا کہ برادران وطن متنفر ہو کر اسلام سے کچھ اور دور ہو جائیں۔ اس قسم کی کوششوں نے یہی کارنامہ انجام دیا۔

جنت کی ضرورت

رشی کیش کے پروگرام میں جین مذہب کے کئی لوگ آئے ہوئے تھے۔ ایک جینی پیشوا جو اپنے منہ پر پٹی لگائے ہوئے تھے ان سے گفتگو ہوئی۔ گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ میں ان لوگوں سے کہتا ہوں کہ آپ مندر بنانا چھوڑ و، انسان بناؤ۔ میں نے پوچھا کہ انسان بنانے کا فارمولا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپنی خواہشوں (desires) کو ہلاک کرنا۔ انہوں نے بتایاکہ جینی طریقہ کے مطابق، منہ پٹی باندھنا اسی باپرہیز زندگی کی ایک علامت ہے۔

میں نے کہا کہ دوسرے لفظوں میں، آپ کا نظریہ، سلف کنٹرول کا نظریہ ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کوئی شخص سلف کنٹرول کیوں کرے۔ کوئی شخص اپنی طاقتور خواہشوں کو کیوں دبائے۔ انسان کو سلف کنٹرول پر آمادہ کرنے کے لیے ایک زیادہ بڑا محرک در کار ہے۔ اس سلسلہ میں

‹ Previous page Next page › Contents of June 2019 All issues

Printed page