قول بلیغ
الرسالہ، جون ۲۰۱۹، صفحہ ۲۵
کنڈیشننگ کو ختم کرکے انہیں اپنی اصل حالت کی طرف لوٹایا جائے۔
قول بلیغ
حیدر آباد کے سفر (دسمبر 2002) میں ہندوؤں کی ایک مجلس میں میں نے اسلامی تعلیمات کا تعارف پیش کیا۔ لوگوں نے بہت غور سے سنا۔ آخر میں ایک تعلیم یافتہ ہندو نے کہا کہ آپ اسلام کو اس طرح پیش کرتے ہیں کہ وہ لوگوں کے لیے سہی سوچ کا ذریعہ ہو جائے۔ یعنی اسلام کو ماننا اُن کے لیے آسان ہو جائے۔
فکری مستوی کے مطابق کام
موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی اصلاح اور اسلام کے احیائے کا جو کام کرنا ہے وہ تقلیدی انداز میں نہیں ہو سکتا۔ آج ہزاروں تحریکیں اس مقصد کے لیے سرگرم ہیں مگر مطلوب نتیجہ برآمد نہیں ہو رہا ہے۔ اُس کا خاص سبب یہی ہے۔ آج ضرورت ہے کہ اسلام کی تعلیمات کو وقت کے فکری مستوی (intellectual level) پر پیش کیا جائے تا کہ وقت کا کارفرما طبقہ اُس کو اپنا سکے۔ ہماری موجودہ تحریکیں اسلام کو وقت کے فکری مستوی پر پیش نہیں کر رہی ہیں اس لیے عوامی طبقہ کے کچھ لوگ تو ضرور اُن کے گرد اکٹھا ہو رہے ہیں مگر اعلیٰ طبقہ کے لوگ اُنہیں قابل توجہ نہیں سمجھتے۔ حالاں کہ جب تک اعلیٰ طبقہ کے لوگ متوجہ نہ ہوں اسلام کی نئی تاریخ بنائی جاسکتی۔ مذہب کی ضرورت حیدر آباد کے سفر (دسمبر 2002) میں ایک تعلیم یافتہ ہندو نے گفتگو کے دوران کہا کہ آپ لوگ خدا اور روحانیت کی بات کرتے ہیں، لیکن آج کا ایک انسان جس کے پاس پیسہ ہے اور جس کو مادی سہولتیں حاصل ہیں وہ کہتا ہے کہ ہم کو خدا اور روحانیت کی کیا ضرورت۔ ہم جو کچھ چاہتے ہیں وہ سب کچھ ہم کو اس کے بغیر ملا ہوا ہے۔ پھر کیوں خدا اور روحانیت جیسی چیزوں میں اپنے دماغ کو الجھائیں۔
میں نے کہا کہ آپ کو جو چیز ملی ہوئی ہے وہ کیا ہے۔ وہ صرف وہ چیزیں ہیں جو آپ کے جسم
‹ Previous page Next page › Contents of June 2019 All issues