دعوت کیا ہے
الرسالہ، جون ۲۰۱۹، صفحہ ۲۴
میں گم ہے۔ ربانیات کی نہ کسی کو معرفت ہے اور نہ کسی کو سننے کی فرصت۔ ڈاکٹر گوپی ناتھ نے اپنے گھر میں ایک میز پر طرح طرح کے کھانے کی چیزیں اور مشروب رکھے، مگر میں نہ کھاسکا اور نہ کچھ پی سکا۔ میری آنکھوں سے مسلسل آنسو بہہ رہے تھے۔ میں سوچ رہا تھا کہ کاش میرے پاس طاقت ہوتی اور میں انسانوں کے اجتماع میں داخل ہو کر امریکی سائنس داں کی طرح مائک چھین لیتا اور چلا کر کہتا: Stop everything, I want to inform you the law of the universe. وہ لوگ بھی کیسے عجیب ہوں گے جو ہادی بننے کے دعویدار ہوں حالانکہ وہ مہدی بھی نہ ہوں۔ جو معلم بنے ہوئے ہوں حالانکہ وہ متعلم بھی نہ ہوں۔ جو اپنے کو پانے والے کے روپ میں ظاہر کرتے ہوں حالانکہ وہ ڈھونڈنے والے بھی نہ ہوں۔ جو خدا کو جاننے کے دعویدار ہوں حالانکہ انہوں نے اپنے آپ کو بھی نہ جانا ہو۔ (ماہنامہ الرسالہ، کیرلا کا سفر، فروری 2003)
دعوت کیا ہے
حیدر آباد کے سفر (دسمبر 2002) میں کچھ مسلم نوجوانوں سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ دعوت کا کام آدمی کو فطرت کے راستہ پر لے آنا ہے۔ اس کا مقصد کنڈیشننگ کو ختم کرکے انسان کو اپنی فطرت پر قائم کرنا ہے، مسلم و غیر مسلم دونوں کا مسئلہ یہی ہے: Dawah is de-conditioning, both of Muslims as well as of non-Muslims. حدیث میں بتایا گیا ہے کہ ہر انسان اپنی فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ پھر اُس کے ماں باپ اُس کو یہودی اور نصرانی اور مجوسی بنا دیتے ہیں (كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ، أَوْ يُنَصِّرَانِهِ، أَوْ يُمَجِّسَانِهِ) صحیح البخاری، حدیث نمبر 1385 ۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عام انسان اپنے ماحول سے متاثر ہو کر سچائی سے ہٹ جاتا ہے۔ اسی طرح مسلمانوں کے بارہ میں قرآن و حدیث سے ثابت ہے کہ بعد کے زمانہ میں وہ، دوسری امتوں کی طرح خود ساختہ دین کو دین سمجھ کر اُس پر قائم ہو جائیں گے۔ اس اعتبار سے دونوں ہی گروہوں کا کیس اپنے اپنے لحاظ سے کنڈیشننگ کا کیس ہے ۔ اور دونوں ہی کے سلسلہ میں یہ کرنا ہے کہ اُن کی
‹ Previous page Next page › Contents of June 2019 All issues