Al-Risala · June 2019 · page 27

دعوتی تیاری

الرسالہ، جون ۲۰۱۹، صفحہ ۲۷

میں نے کہا کہ یہ ایک مغالطہ آمیز بات ہے۔ اس لیے کہ ساتویں صدی عیسوی میں انسانی علم ابھی روایتی دور میں تھا۔ انسانی علم کاروایتی دور سے نکل کر سائنسی دور میں پہنچنا مسلمہ طور پر بہت بعد کو ہوا۔ اب اس معیار کے مطابق، کہنے والا کہہ سکتا ہے کہ اسلام دورِ قدیم کا مذہب ہے، وہ دورِ جدید کا مذہب نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گفتگو کے دوران ڈاکٹر تو گڑیا نے کہا کہ اسلام تشدد کا مذہب ہے، اور مسلم تاریخ خون سے لکھی گئی ہے۔ یہ سن کر مذکورہ مسلمان نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ کیا آپ اس معاملہ میں دوسرے مذاہب کی تاریخ کو جانتے ہیں۔ اُن کی تاریخ بھی اگر زیادہ نہیں تو اس سے کم خونی نہیں۔ ان کے الفاظ یہ تھے:

I countered by asking if he was aware of the history of یہ جواب کا وہ طریقہ ہے جس کو الزامی جواب کہا جاتا ہے۔ وہ اُس آدمی کے لیے مفید نہیں جو دینِ حق کی نمائندگی کر رہا ہو۔ اسلام ہر حال میں با اصول کردار کا حکم دیتا ہے۔ دوسروں کا غلط رویہ اسلام کے لیے کبھی مثال نہیں بن سکتا۔ ڈاکٹر توگڑیا کے مذکورہ بیان کا صحیح جواب یہ تھا کہ اسلام اصولی حیثیت سے ایک پُرامن مذہب ہے۔ البتہ مسلمان، خاص طور پر مسلم حکمران، تشدد کے مرتکب ہوئے ہیں۔ مگر آپ کو چاہیے کہ اسلام اور مسلمان میں فرق کریں۔ اسلام کو سمجھنے کے لیے اسلام کی تعلیمات کو دیکھیں، نہ کہ مسلمانوں کے عمل کو۔

انہوں نے اپنی گفتگو کی تفصیلی رپورٹ دینے کے بعد آخر میں کہا کہ جب میں نے مسلمانوں میں ریفارم کی ضرورت کو تسلیم کیا تو اس موقع پر ڈاکٹر تو گڑیا نے آپ کا نام لیا اور آپ کی کوششوں کے بارے میں اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا۔ اس موقع پر مذکورہ مسلمان کے الفاظ یہ تھے: Dr. Togadia asked me about you. He said he had not met اپنے تجربہ کے مطابق، میں ایسے بہت سے مسلمانوں کو جانتا ہوں۔ اسلام کے بارے میں

‹ Previous page Next page › Contents of June 2019 All issues

Printed page