اکرام مسلم، اکرام انسانیت
الرسالہ، جون ۲۰۱۹، صفحہ ۲۸
ان کا علم محدود ہے۔ وہ اسلام کے بارے میں جب بولتے ہیں تو وہ اسلام کی یا تو غلط نمائندگی کرتے ہیں یا ناقص نمائندگی۔ ایسے مسلمانوں سے میں کہتا ہوں کہ وہ دو میں سے ایک کا انتخاب کریں۔ یا تو وہ اپنے دوسرے کاموں کو چھوڑ کر ساری زندگی مطالعہ اور تحقیق میں لگائیں تا کہ وہ اسلام کی صحیح نمائندگی کے قابل ہو سکیں، اور اگر ان کے پاس اتنا وقت نہیں ہے تو دوسری صورت ان کے لیے یہ ہے کہ اگر کسی عالم نے اپنی پوری زندگی صرف کر کے اسلام پر ایسا لٹریچر تیار کیا ہے، جس کا اعتراف دوسرے بھی کرتے ہوں تو وہ اس لٹریچر کو استعمال کریں، اور خود لکھنے اور بولنے کے بجائے اُس کی کتابیں دوسروں کو پڑھنے کے لیے دیں۔ مگر بدقسمتی سے ان لوگوں نے تیسری صورت کا انتخاب کر رکھا ہے۔ اور اس طرح کے معاملہ میں تیسرا انتخاب ہمیشہ غلط ہوتا ہے۔
اکرام مسلم، اکرام انسانیت
حیدر آباد کے اس سفر میں ایک صاحب نے ملاقات کی اور کہا کہ آپ غیر مسلموں میں دعوت کی بات کرتے ہیں۔ غیر مسلموں میں دعوت کا کام کس طرح کیا جائے۔ میں نے کہا کہ دعوت کا عمل گہری خیر خواہی کے جذبہ کے تحت انجام پاتا ہے۔ اور جہاں گہری خیر خواہی ہو وہاں یہ پوچھنے کی ضرورت نہیں ہوتی کہ ہم یہ کام کیسے کریں۔
میں نے کہا کہ کیا کوئی ماں کسی سے پوچھنے جائے گی کہ میں اپنے بیٹے کی خدمت کس طرح کروں۔ کیا کوئی باپ کسی سے پوچھنے جائے گا کہ میں اپنی اولاد کے ساتھ پدری حقوق کس طرح ادا کروں۔ ماں اور باپ خود اپنی قلبی محبت کے تحت یہ جان لیتے ہیں کہ اُنہیں اپنے بیٹے اور بیٹی کے ساتھ کیا کرنا ہے۔ اسی طرح جو لوگ انسان کی محبت میں تڑپیں ، جن کے دل میں یہ درد ہو کہ اُن کے آس پاس کے لوگ جہنم میں نہ جائیں ، اُنہیں کسی سے یہ پوچھنے کی ضرورت نہیں کہ وہ لوگوں کی اصلاح و دعوت کا کام کس طرح کریں۔ اُن کا داخلی جذبہ ہی اُنہیں یہ بتانے کے لیے کافی ہو گا کہ اُنہیں اپنی دعوتی ذمہ داری کو کس طرح ادا کرنا چاہیے۔ مگر بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمان اکرام مسلم کو جانتے ہیں، اکرام انسان کی اہمیت سے شعوری طور پر وہ باخبر ہی نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2019 All issues