مستقبل کو دیکھنا
الرسالہ، جون ۲۰۱۹، صفحہ ۳۴
اسلام کی ابدی تعلیمات کا از سر نو انطباق (re-application) دریافت کیا جائے۔ اس طرح اجتہاد کا اصول اسلام کی ابدیت کو مسلسل باقی رکھتا ہے۔ (ماہنامہ الرسالہ، احمد آباد کا سفر، مئی 2003) دعوت کا ماحول میرٹھ (یوپی) کے سفر (اگست 2003) میں 6 ستمبر کی رات کو محمد ساجد صاحب کے مکان پر کئی ہندو اور مسلمان اکٹھا ہوئے۔ ان سے دیر تک باتیں ہوتی رہیں۔ 6 ستمبر کی شام کے کھانے میں مسلمانوں کے ساتھ کئی ہندو بھی شریک تھے۔ ایک صاحب نے کہا کہ یہ علامتی طور پر گویا مستقبل کے ہندوستان کی ایک تصویر ہے۔ یعنی وہ ہندوستان جب کہ مسلمان اور ہندو دونوں بھائی بھائی کی طرح مل کر رہیں گے۔ وہ ایک ساتھ بیٹھیں گے اور ایک ساتھ کھانا کھائیں گے۔ جب ایسا ہو گا تو یہ صرف سماجی معنوں میں میل ملاپ کا واقعہ نہ ہو گا، بلکہ وہ ایک ایسا انٹریکشن ہو گا جو فطری انداز میں دین حق کے تعارف کا ذریعہ بن جائے گا۔
اسلامی تاریخ کے مطالعہ سے میں نے پایا ہے کہ اسلام کا سب سے زیادہ تعارف جس ذریعہ سے ہوا وہ نارمل ماحول میں انٹریکشن یا باہمی اختلاط سے ہوا۔ مسلمانوں اور غیر مسلموں کا اختلاط جب بھی ہوا وہ اسلام کے تعارف کا باعث بنا۔ ہمارے مشن کا خاص مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان کھلے ماحول میں پر امن ڈائیلاگ ہونے لگے۔
مستقبل کو دیکھنا
میرٹھ کے سفر میں ایک مجلس میں سوالات کے وقفہ کے دوران ایک صاحب نے کچھ انتہا پسند ہندو لیڈروں کا نام لے کر کہا کہ ہندوؤں کے دل میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نفرت ہے پھر اس مسئلہ کا حل کیا ہے۔ اس موقع پر ہمارے ساتھی مسٹر رجت ملہوترہ بھی شریک تھے۔ انہوں نے کہا کہ مجھ کو دیکھیے، میں اس سوال کا ایک عملی جواب ہوں۔
میں ایک ہندو فیملی میں پیدا ہوا۔ دو سال پہلے میں ویسا ہی ہندوتھا جیسا کہ آپ نے فرمایا۔ مگر آج میں پوری طرح بدل چکا ہوں۔ آج میرے دل میں اسلام سے اتنا ہی پیار ہے جتنا کسی مسلمان کو
‹ Previous page Next page › Contents of June 2019 All issues