دعوت سے غفلت
الرسالہ، جون ۲۰۱۹، صفحہ ۳۳
حامل تھے۔ اس کے باوجود وہ سچائی کو نہ پاسکے۔ اس کا سبب میرے تجربہ کے مطابق، ذہنی انتشار (confusion) ہے۔ سوال یہ ہے کہ کنفیوژن کسی کو کیوں ہوتا ہے۔ میرے نزدیک اس کا سبب یہ ہے کہ لوگوں کا دماغ زیادہ تر معلومات کا جنگل ہوتا ہے۔ وہ ایسا نہیں کر پاتے کہ تحلیل و تجزیہ (analysis) کرکے مختلف معلومات سے ایک نتیجہ نکال سکیں ۔ وہ متعلق اور غیر متعلق کا فرق سمجھیں۔ وہ بنیادی اور غیر بنیادی میں تمیز کر سکیں اور پھر مختلف معلومات کو ہضم کرکے صحیح نتیجہ نکالیں۔ اسی ناکامی کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ لوگوں کا معلوماتی ذخیرہ اُن کو صرف کنفیوژن تک پہنچاتا ہے، وہ اُنہیں فکری پختگی عطا نہیں کرتا۔
اسی قسم کے ایک صاحب کا معاملہ یہ ہے کہ وہ کافی ذہین اور تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود سخت ذہنی انتشار میں مبتلا رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ مسکّن (tranquilizer) استعمال کر کے سوتے ہیں۔ ایک دعوتی گفتگو احمد آباد کے سفر (جنوری 2003) میں محمد حسن جوہر صاحب کے گھر پر کچھ تعلیم یافتہ ہندوؤں سے ملاقات ہوئی۔ مسٹر چونی اور مسٹر وید یا، وغیرہ۔ اُن کا ایک سوال یہ تھا کہ خدا کا تصور اسلام میں کیا ہے۔ میں نے کہا کہ اسلام میں ادویت واد کا تصور نہیں ہے۔ بلکہ اسلام میں دوئت واد کا تصور ہے، یعنی خالق اور مخلوق دونوں ایک نہیں ہیں، بلکہ دونوں ایک دوسرے سے مکمل طور پر الگ ہیں۔ اس سلسلہ میں میں نے توحید کے عقیدہ کی کچھ تفصیل بیان کی۔
ان کا ایک سوال یہ تھا کہ آپ لوگ قرآن کو آخری کتاب مانتے ہیں جو کہ چودہ سوسال پہلے اُتاری گئی۔ انسان کے حالات تو بار بار بدلتے رہتے ہیں۔ پھر بدلے ہوئے حالات میں دوسری کتاب کیوں ضروری نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس عقیدہ سے تو ذہنی ارتقا رک جاتا ہے جب کہ ہندو ازم میں ایسا عقیدہ نہ ہونے کی وجہ سے ذہنی ارتقاء جاری رہتا ہے۔
میں نے کہا کہ یہ صحیح ہے کہ ہم قرآن کو آخری کتاب مانتے ہیں۔ مگر اسی کے ساتھ اسلام کی ایک اہم تعلیم وہ ہے جس کو اجتہاد کہا جاتا ہے۔ اجتہاد کا مطلب یہ ہے کہ بدلے ہوئے حالات میں
‹ Previous page Next page › Contents of June 2019 All issues