دعوت کا ایک عملی نمونہ
الرسالہ، جون ۲۰۱۹، صفحہ ۳۹
وہ خود کسی کے اوپر حملہ کریں۔ ان کی پالیسی ہمیشہ یہ ہوتی تھی کہ اگر فریق ثانی کی طرف سے جارحیت ہو تو اپنے بچاؤ کے لیے جنگ کی جا سکتی ہے۔ آپ نے دفاعی جنگ بھی اس وقت کی جب کہ اس کے سوا کوئی اور صورت باقی نہیں رہی تھی۔ مگر جہاں تک خود اپنی طرف سے حملہ کرنے کی بات ہے تو پیغمبر نے نہ ایسا کبھی کیا اور نہ انہوں نے اس کی تعلیم دی۔
میں نے اپنی تقریر میں آغاز اسلام کی مختصر تاریخ بتائی۔ پیغمبرِ اسلام کے مکی دور اور مدنی دور کا تذکرہ کیا۔ قرآن اور حدیث سے متعارف کرنے کی کوشش کی۔ اسلام کی تعلیمات کا خلاصہ پیش کیا۔ آخر میں میں نے کہا کہ اسلام کو درست طور پر سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ اسلام اور مسلمانوں میں فرق کریں۔ آپ اسلام کو قرآن اور حدیث کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کریں۔ آپ ایسا ہرگز نہ کریں کہ مسلمان جو کچھ کرتے ہیں اُس کو دیکھ کر سمجھ لیں کہ اسی کا نام اسلام ہے۔ دو پہر بعد کا پروگرام سوال و جواب کے لیے تھا۔ اس میں شرکاء نے اپنے اپنے سوالات اسلام کے بارے میں پیش کیے ۔ میں نے دیکھا کہ لوگ ایک سوال اور ایک جواب کے اصول پر سختی سے کاربند ہیں۔ کسی نے بھی میرے جواب کے بعد دوبارہ سوال کرنے کی کوشش نہیں کی۔ ایک سوال یہ تھا کہ مسلمان اپنے عقیدہ کے مطابق، ہندوؤں کو کافر سمجھتے ہیں۔ ایسی حالت میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان نارمل تعلقات کیسے قائم ہو سکتے ہیں۔ میں نے کہا کہ اسلام کی تعلیم کے مطابق، ہندو یا دوسرے مذہبی گروہ کا فر نہیں ہیں، بلکہ وہ انسان ہیں۔ قرآن میں بار بار لوگوں کو خطاب کرتے ہوئے اے انسان، اور اے انسانو، کے الفاظ آئے ہیں۔ پیغمبر کے اصحابِ پیغمبر کی وفات کے بعد عرب کے باہر ایشیا اور افریقہ کے مختلف ملکوں میں پھیل گئے۔ ہر جگہ اُنھوں نے یہ کیا کہ وہاں کے باشندے خود اپنے آپ کو جو نام دیے ہوئے تھے وہی نام اصحابِ پیغمبر نے بھی اُنہیں دیا۔ مثلاً مسیحی کو مسیحی، یہود کو یہود، رومی کو رومی، مجوس کو مجوس، بدھسٹ (بوذا) کو بدھسٹ، وغیرہ۔ یہی اس معاملہ میں اسلام کا طریقہ ہے۔ ہندوستان میں مختلف مذہبوں کے ماننے والے لوگ بستے ہیں۔ اسلام کے مطابق، مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ ہر گروہ کو اُسی نام سے پکاریں، جو اُن کا اپنا
‹ Previous page Next page › Contents of June 2019 All issues