جنت کا تعارف
الرسالہ، جون ۲۰۱۹، صفحہ ۴۰
اختیار کردہ نام ہے۔ مثلاً ہندو، سکھ، مسیحی، پارسی، جینی، وغیرہ۔ مسلمانوں کو ہرگز یہ حق نہیں کہ وہ ان گروہوں کو کافر کے لفظ سے پکاریں۔ یہی اس معاملہ میں اسلام کی تعلیم ہے۔ گاندھیائی سینٹر میں میری تقریر کے بعد جو سوالات ہوئے وہ زیادہ تر اسی قسم کے سوالات تھے جو دوسرے غیر مسلم اجتماعات میں کئے جاتے ہیں۔ مثلاً بابری مسجد، برقعہ، مدرسوں میں عسکری تربیت وغیرہ۔ اسی قسم کا تجربہ مجھے مسلمانوں کے اجتماعات میں بھی ہوا۔ مسلمانوں کے اجتماع میں جب میں تقریر کرتا ہوں اور اس کے بعد سوال کا وقفہ دیا جاتا ہے تو وہاں بھی زیادہ تر ایک ہی قسم کے سوالات کئے جاتے ہیں۔ مثلاً بابری مسجد، فرقہ وارانہ فساد، وندے ماترم، مسلم پرسنل لا وغیرہ۔ میں نے سوچا کہ آخر لوگ یکساں قسم کے سوالات کیوں کرتے ہیں۔ میری سمجھ میں آیا کہ اس کا راز اخبارات ہیں۔ مسلمان اور غیر مسلم دونوں اخباروں کے ذریعہ اپنی رائے بناتے ہیں۔ اخباروں میں عام طور پر جو باتیں آتی رہتی ہیں وہی باتیں ان کے ذہن میں ہوتی ہیں، اور انہی کے بارے میں وہ سوال کرتے ہیں۔ یہ طریقہ ذہنی ارتقاء کے لیے بہت بڑی رکاوٹ ہے۔
جنت کا تعارف
25 نومبر کو دوپہر بعد کے سیشن میں ڈاکٹر ہیمنت شاہ کی تقریر تھی۔ انھوں نے جین ازم کے نقطہ نظر سے خطاب کیا۔ خطاب کے بعد سوال و جواب کا وقفہ تھا۔ انھوں نے اپنے خطاب میں یہ کہا تھا کہ پیس قائم کرنے کے لیے سب سے زیادہ ضروری چیز برداشت (restraint) ہے۔ برداشت کرنے والے کو پیس آف مائنڈ ملتا ہے جو کہ جین ازم میں انسانی ترقی کا اعلیٰ درجہ ہے۔ اس سلسلہ میں میں نے سوال کرتے ہوئے کہا کہ آپ کا یہ کہنا صحیح ہے کہ برداشت سے پیس حاصل ہوتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کوئی برداشت کیوں کرے۔ برداشت میں کچھ چھوڑنا پڑتا ہے۔ اور انسان چھوڑنے پر اسی وقت راضی ہوتا ہے جب کہ اس کو کوئی اس سے بڑی چیز مل رہی ہو۔ میں نے کہا کہ اسلام میں بھی صبر و برداشت کا اصول ہے۔ اسلام میں اس کا انعام یہ بتایا گیا ہے کہ ایسے آدمی کو ابدی جنت (eternal paradise) بطور انعام ملے گی۔ مگر آپ جس چیز کو انعام
‹ Previous page Next page › Contents of June 2019 All issues