آسان تدبیر
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۹، صفحہ ۳۰
آسان تدبیر
میں نے اپنی ڈائری (17 فروری 2004) میں یہ الفاظ لکھے جب بھی مجھے کسی سے کوئی شکایت پیدا ہوتی ہے تو میں اس معاملہ میں خود اپنی غلطی دریافت کرلیتا ہوں۔ اس کے بعد وہ شکایت اپنے آپ ختم ہو جاتی ہے۔ اصل یہ ہے کہ موجودہ دنیا نا خوشگوار باتوں سے بھری ہوئی ہے۔ یہاں ہر آدمی کو اپنی پسند کے خلاف باتوں کے درمیان جینا پڑتا ہے۔ ایسی ایک ناموافق دنیا میں آدمی کس طرح زندگی گزارے۔ وہ ناخوش گوار تجربات کے درمیان کس طرح اپنے لیے ایک خوش گوار زندگی کی تعمیر کرے۔ اس کا فارمولا صرف ایک ہے— ناخوش گواری کو خوش گواری میں بدل لینا۔ اس دنیا میں ہر قسم کی ترقی کا سب سے بڑا راز مثبت سوچ ہے۔ تمام ترقیاں اسی مثبت سوچ کے ساتھ بندھی ہوئی ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ منفی تجربات کے درمیان مثبت سوچ کو کس طرح برقرار رکھا جائے۔ اس کا سب سے آسان فارمولا یہ ہے کہ شکایت پیدا ہوتے ہی آدمی اس کو ڈفییوز کر کے ختم کردے۔ ڈیفیوز کرنے کے لیے آدمی اگر یہ طریقہ اختیار کرے کہ جس سے شکایت ہوئی ہے اُس سے بحث کر کے اُس کو قائل کرے تو اس طرح کی کوشش میں کامیابی تقریباً صفر کے برابر ہے۔ ایسی حالت میں بہترین تدبیر یہ ہے کہ آدمی خود اپنے اندر شکایت کا سبب دریافت کرے۔ اس طرح وہ ایک لمحہ کے اندر اپنے آپ کو معتدل بنا سکتا ہے، وہ کسی تاخیر کے بغیر اپنے اندر مثبت سوچ کا عمل دوبارہ جاری کر سکتا ہے۔
اس تدبیر کی معنویت یہ ہے کہ آدمی کو دوسروں کے اوپر تو کوئی اختیار نہیں۔ مگر ہر آدمی خود اپنے آپ پر پورا اختیار رکھتا ہے۔ شکایت کو دور کرنے کے لیے دوسروں سے آغاز کرنا گویا ناممکن سے آغاز کرنا ہے۔ اس کے مقابلہ میں شکایت کو ختم کرنے کے لیے خود اپنے آپ سے آغاز کرنا گویا ممکن سے آغاز کرنا ہے۔ اور جب ممکن سے آغاز کرنے کا راستہ کھلا ہوا ہو تو کوئی نادان ہی ایسا کر سکتا ہے کہ وہ ناممکن سے آغاز کرنے کی ناکام کوشش کرے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2019 All issues