Al-Risala · January 2019 · page 29

مین آف مشن

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۹، صفحہ ۲۹

مین آف مشن

ایک صاحب مجھ سے ملنے کے لیے آئے۔ انھوں نے بتایا کہ میں نے سنا تھا کہ آپ بوڑھے ہوگئے ہیں، اور اب کسی سے ملاقات نہیں کرتے۔ اس کے باوجود میں آپ سے ملنے کے لیے آگیا۔ میں نے سوچا کہ اگر بات چیت نہیں ہوگی تو میں کم از کم آپ کو دیکھ لوں گا، اور آپ سے مصافحہ کرلوں گا۔ میں نے کہا کہ آپ نے مین آف مشن کو انڈر ایسٹیمیٹ (underestimate) کیا۔ مین آف مشن نہ کبھی بوڑھا ہوتا ہے، اور نہ وہ کبھی ملاقات کا سلسلہ بند کرتا ہے۔ میں نے کہا کہ آدمی جب بوڑھا ہو تو وہ مشن پلس (‘mission ‘plus) بن جاتا ہے۔ بوڑھا ہونے سے پہلے اس کے پاس علم تھا تو بوڑھا ہونے کے بعد اس کے پاس علم کے ساتھ تجربہ (experience) کا اضافہ ہو جاتا ہے۔ لمبی عمر کی بنا پر وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ حال کے واقعات پر دانش مندانہ تبصرہ کرے ۔ اسی کے ساتھ وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ پچھلے زمانہ کے بارے میں لوگوں کو اپنا مشاہدہ بتائے۔ علم یا معلومات ہر ایک کے پاس ہوسکتی ہے، لیکن تجربہ ہر ایک کے پاس نہیں ہوتا۔ تجربے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی پر مختلف قسم کے احوال گزریں، اور اس قسم کا معاملہ صرف اس کے ساتھ پیش آتا ہے جو لمبی عمر تک زندہ رہے۔ اس لیے لوگوں کو چاہیے کہ وہ بوڑھے آدمی سے ضرور ملیں۔ وہ بوڑھے آدمی سے مل کر زندگی کے بارے میں اس کے تجربات کو جانیں، وہ اس کے تجربات سے اپنی زندگی کی زیادہ درست منصوبہ بندی کریں۔

یہ فطرت کا ایک عجیب نظام ہے کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ انسان جسمانی اعتبار سے بوڑھا ہو جاتا ہے، لیکن ذہنی اعتبار سے وہ بوڑھا نہیں ہوتا۔ اکثر حالات میں اس کی یادداشت (memory) بڑی حد تک باقی رہتی ہے۔ اس بنا پر وہ اس قابل ہوتا ہے کہ اپنے پچھلے گزرے ہوئے واقعات کو بتائے، اور طویل مدت کے درمیان پیش آنے والے تجربات سے لوگوں کو واقف کرائے۔ اسی بنا پر کہا جاتا ہے کہ اولڈ از گولڈ (old is gold)۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2019 All issues

Printed page