نفرت کی نفسیات
الرسالہ، جون ۲۰۱۹، صفحہ ۴۱
بتاتے ہیں وہ صرف پیس آف مائنڈ ہے۔ انسان کا نفسیاتی مطالعہ بتاتا ہے کہ آدمی صرف پیس آف مائنڈ کے نام پر اپنے مادی حقوق کو چھوڑنے پر راضی نہیں ہوتا۔ اسلام ضبط (restraint) کی زندگی کا انعام جنت کی اٹرنل ورلڈ کی شکل میں دیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام میں ضبط وتحمل کی تعلیم بھی ہے، اور اسی کے ساتھ ضبط وتحمل کا محرک بھی۔ جب کہ دوسرے مذہبی یا غیر مذہبی نظاموں میں یہ ہے کہ وہ ضبط وتحمل کی تلقین تو کرتے ہیں، مگر وہ اس کے لیے کوئی محرک (incentive) پیش نہیں کر پاتے، اور محرک کے بغیر صرف تلقین کی عملی طور پر کوئی اہمیت نہیں۔
نفرت کی نفسیات
موجودہ زمانہ میں ساری دنیا میں مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ شکایت اور احتجاج کی نفسیات میں جیتے ہیں۔ اس کا نقصان یہ ہے کہ موجودہ مسلمان دوسری قوموں کو اپنا دشمن سمجھنے لگے ہیں۔ اس منفی نفسیات کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا ہے کہ مسلمانوں کے اندر دعوت کا مزاج ختم ہو گیا ہے۔ دعوت ایک ایسا عمل ہے جو محبت اور خیر خواہی کی نفسیات کے تحت ظاہر ہوتا ہے۔ نفرت کی نفسیات کے تحت کبھی دعوت کا عمل ظہور میں نہیں آتا۔
عملی دعوت
ایک ہندو خاتون جو واردھا کی کانفرنس میں شریک تھیں انھوں نے کہا کہ میں یہ جاننا چاہتی ہوں کہ نماز کیسے پڑھی جاتی ہے۔ ان کا نام کوکِلّا آپادھیائے تھا۔ وہ پروفیسر ایس اے آپادھیائے کی بیوی تھیں۔ وہ بمبئی سے آئی تھیں (23803811 Tel.)
24 نومبر کی شام کو وہ میرے کمرے میں آئیں ۔ میں نے وضو کیا اور ان کے سامنے دو رکعت نماز بلند آواز سے پڑھی۔ وہ بہت غور سے اس کو دیکھتی رہیں اور اس سے کافی متاثر ہوئیں۔ انھوں نے اسلام پر کتابیں پڑھنے کی خواہش ظاہر کی۔ ان کو ہمارے یہاں کی چھپی ہوئی چند انگریزی کتابیں دی گئیں۔ اسی طرح اور بھی کئی لوگوں کو کتابیں دی گئیں۔ مثلاً ڈاکٹر نتین ویاس جو بڑودہ یونیورسٹی میں ڈپارٹمنٹ آف فلاسفی کے ہیڈ ہیں۔ (ماہنامہ الرسالہ، واردھا کا سفر ، جولائی 2004)
‹ Previous page Next page › Contents of June 2019 All issues