مومن ایک با اصول انسان
الرسالہ، جون ۲۰۱۹، صفحہ ۴۴
ان کے ساتھ تھی یہ سوال وجواب سوال منفی (negative) سوچیں دل و دماغ کا موذی کام کرتی ہیں، یہاں ہمارے ساتھی اس بات سے منفی (negative) ہورہے ہیں کہ وہ دعوتی کام کرتے ہیں، لیکن لوگ تبدیل نہیں ہوتے ہیں۔ اس کا حل مکیا ہو، اور اپنے دعوتی ساتھیوں کو کیسے سمجھایا جائے ۔ (طارق بدر، پاکستان)
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
جواب
اِس کا منہ خشک ہو جاتا ہے، اس میں تزیق (ترشی) کا احساس ہوتا ہے جو لوگ دعوت کے معاملے میں اس طرح کی منفی بات کہتے ہیں، ان کو قرآن کا مطالعہ کرنا چاہیے ۔ قرآن میں نبیوں کا تذکرہ ہے۔ انبیاء وہ لوگ ہیں، جو دعوت کا معیاری ماڈل تھے۔ انھوں نے جب لوگوں کے سامنے دعوت پیش کی تو اکثریت نے منفی ردعمل کا اظہار کیا۔ چنانچہ قرآن میں اس تجربے کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے : يَاحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيْهِمْ مِنْ رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ (36:30) ۔ یعنی افسوس ہے بندوں کے اوپر، جو رسول بھی ان کے پاس آیا وہ اس کا مذاق ہی اڑاتے رہے۔ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ دعوت کے مقابلے میں منفی ردعمل کے باوجود انبیاء اپنا دعوتی کام کرتے رہے۔ انھوں نے لوگوں کی شکایت نہیں کی، اور نہ اپنا دعوتی کام چھوڑا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ انبیاء جو دعوتی کام کرتے تھے، وہ مدعو کے لیے نہیں کرتے تھے، بلکہ اللہ کے لیے کرتے تھے۔ ہمارا عقیدہ ہے کہ انبیاء دعوت کے کام میں ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس لیے جو لوگ دعوت کا کام کریں، ان کو چاہیے کہ وہ ہمیشہ اس ماڈل کو اپنے سامنے رکھیں۔ مثلاً پیغمبر اسلام آخری پیغمبر ہیں۔ آپ کی مثال بتاتی ہے کہ دعوت کا ایک اصول ری پلاننگ ہے۔ کی دور کا طریقہ موثر نہیں ہوا، تو آپ نے دعوت کا دوسرا منصوبہ بنایا، اور یہ دوسرا منصوبہ اتنا زیادہ کامیاب ہوا کہ پوری قوم نے ان کی دعوت کو قبول کر لیا۔ اس نمونے سے معلوم ہوتا ہے کہ دعوت کا ایک اصول ری پلاننگ ہے۔ اگر ایک طریقہ (method) مؤثر نہ ہو، تو داعی کو چاہیے کہ وہ دوسرے طریقہ کا تجربہ کرے۔ عین ممکن وقیع ترین
‹ Previous page Next page › Contents of June 2019 All issues