مومن ایک با اصول انسان
الرسالہ، جون ۲۰۱۹، صفحہ ۴۵
ہے کہ دوسرا طریقہ اللہ کی مدد سے کامیاب ثابت ہو۔
سوال
ایک سلفی عالم نے تقریر کی کہ چند لوگوں کا منہج دعوت کلام و فلسفہ اور اسلوب عصر حاضر ہے۔ مگر سلفیوں کا استدلال وحی کے مطابق ہے۔ پھر یہ آیت پڑھی: قُلْ إِنَّمَا أُنْذِرُكُمْ بِالْوَحْيِ (21:45) یعنی کہو کہ میں بس وحی کے ذریعہ سے تم کو آگاہ کرتا ہوں، لا بالكلام ولا بالفلسفة (علم الکلام اور فلسفہ سے نہیں)۔ اس پر میرا سوال یہ ہے کہ عصرِ حاضر کا ایک داعی اسلوب عصر کو اپنا تا ہے تو کیا اس کو فلسفہ کہا جائے گا، اور اس کو وحی سے إنذار نہ کرنے کا ہم معنی قرار دیا جائے گا؟ (حافظ سید اقبال احمد عمری، تامل ناڈو)
جواب
”وحی کے ذریعہ یا وحی کے موافق انذار‘ کسی مخصوص مسلک کے مطابق انذار نہیں ہے۔ اس میں سارا قرآن شامل ہے ۔ مثلاً قرآن کی ایک آیت یہ ہے: سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنْفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ (41:53) ۔ اس آیت کے مطابق، آفاق و انفس کے مطالعے سے معلوم ہونے والی تمام نشانیاں اس میں شامل ہیں۔ آپ انفس اور آفاق کا مطالعہ کریں، اور اس سے حاصل کردہ معلومات کو اپنی دعوت میں استعمال کریں تو وہ سب انذار بالوحی میں شمار ہوگا۔ اگر آپ غور کیجیے تو آفاق وانفس کی نشانیوں میں سارے ثابت شدہ علوم شامل ہوجاتے ہیں ۔ انذار بالوحی کسی فقہی مسلک پر مبنی انذار نہیں ہے، بلکہ سارے حقائق فطرت اس میں شامل ہیں۔
اسی طرح قرآن کی ایک آیت یہ ہے: وَمَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَنْ كَثِيرٍ (42:30) ۔ اس آیت کے مطابق، اگر آپ ایسا کریں کہ مسلمانوں کو نصیحت کریں کہ دوسرے کے ظلم کی شکایت کرنا چھوڑیں ۔ ہر ایسے تجربے کو خود اپنے محاسبہ کے خانے میں ڈالیں تو یہ بھی انذار بالوحی ہوگا، کیوں کہ قرآن سارا کا سارا وحی ہے، اور وحی یہ بتاتی ہے کہ جو مصیبت کسی کو پیش آتی ہے، وہ اس کی اپنی ہی کمزوریوں کی بنا پر ہوتی ہے۔ ایسی حالت میں مسلمانوں کے قومی مسائل کا
‹ Previous page Next page › Contents of June 2019 All issues