Al-Risala · June 2019 · page 46

مومن ایک با اصول انسان

الرسالہ، جون ۲۰۱۹، صفحہ ۴۶

ذمہ دار دوسروں کو قرار دینا، وحی کے خلاف ہے، اور مسلمانوں کو خود اپنی اصلاح کی ترغیب دینا، وحی کے مطابق ہے۔ کیوں کہ قرآن کی یہ آیت ہم کو ایسا ہی بتا رہی ہے۔

اسی طرح قرآن کی ایک آیت یہ ہے: وَقُلْ لَّهُمْ فِيْ أَنْفُسِهِمْ قَوْلاً بَلِيْغاً (4:63)۔ یعنی اور ان سے ایسی بات کہو جو ان کے دلوں میں اترنے والی ہو۔ اس آیت میں قول بلیغ کا مطلب یہ ہے کہ دعوت کا کام اس طرح کرو کہ پہلے مدعو کا مطالعہ کرو، مدعو کے ذہن کو سمجھو، اور پھر ایسے انذار میں اس سے بات کہو، جو اس کے ذہن کو ایڈریس کرنے والی ہو۔ قرآن کی اس آیت کے مطابق، سارے انسانی علوم دعوت میں شامل ہو جاتے ہیں۔ مدعو کی نفسیات کو جاننے کے لیے جس علم کی ضرورت ہو، وہ سب علم دعوت کا مطلوب علم بن جاتا ہے۔ داعی کی یہ ذمہ داری بن جاتی ہے کہ وہ حسب استطاعت ہر اس علم سے واقفیت حاصل کرے، جو مدعو کو مطمئن کرنے والا ہو، حتی کہ حدود کے اندر کلام اور فلسفہ اور عصری اسلوب بھی۔

قرآن کی ایک آیت یہ ہے: وَلَا تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ فَيَسُبُّوا اللَّهَ عَدُوًّا بِغَيْرِ عِلْمٍ (6:108)۔ قرآن کی اس آیت میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ ایسی بات نہ کہو، جو مدعو کو مشتعل کرنے والی ہو۔ اس آیت کے مطابق ، ہم کو بہت زیادہ محتاط زبان میں کلام کرنا چاہیے ۔ اشتعال دلانے والا کلام (provocative speech) سے مکمل احتراز کرنا چاہیے۔ اگر غور کیجیے تو آج کل مسلمانوں کا سارا لکھنے اور بولنے والا طبقہ مدعو کے خلاف لکھنے اور بولنے میں مصروف ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ لوگوں کو بتایا جائے کہ تمھیں اس آیت کے مطابق، لکھنا اور بولنا چاہیے۔ انذار بالوحی کسی محدود اسلوب کلام کا نام نہیں ہے ۔ اس میں سارا قرآن ، ساری حدیث ، ساری سنت شامل ہے۔ اس کے مطابق مسلم رہنماؤں کو چاہیے کہ وہ جدال احسن کا طریقہ اختیار کریں (النحل، 16:125)۔ وہ مناظرہ بازی کو بالکل ختم کر دیں۔ وہ عادلانہ کلام کا طریقہ اختیار کرے، وہ عدل کے خلاف ہر گز نہ جائے (المائدہ، 5:8) ، الغاء فی الکلام نہ کریں (فصلت، 41:26)، یعنی عیب زنی کا طریقہ اختیار نہ کریں۔ اس طرح کی سینکڑوں باتیں ہیں، جو انداز بالوحی میں شامل ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2019 All issues

Printed page