Al-Risala · June 2019 · page 48

اس لیے ان تمام باتوں کے

الرسالہ، جون ۲۰۱۹، صفحہ ۴۸

توبۂ نصوح کے بغیر ہرگز کوئی غلطی معاف نہ ہوگی۔

سوال

ایک صاحب اپنے بارے میں لکھتے ہیں: مزاج کاملیت پسند ہے، جو جذباتی نقصان ہو گیا، دل آج تک اسی میں پھنسا ہوا ہے۔ کچھ اسباب کی بنا پر معاشرے میں جو مل رہا ہے، وہ دل سے قبول تو نہیں لیکن کیا صبر کر کے جو مل رہا ہے اس پر گزارا کیا جائے، یہ سوچ کر کہ جو ملا ہے وہ اسی دنیا تک ہے۔ اور من پسند چیز آخرت میں ملے گی۔ (ایک قاری الرساله، پاکستان)

جواب

آپ نے جس تجربے کا ذکر کیا ہے، اس کا تعلق آخرت سے یا جنت سے نہیں ہے۔ اس کا تعلق صرف دنیا کے بارے میں قانون فطرت سے ہے۔ موجودہ دنیا کا معاملہ یہ ہے کہ ہر آدمی پیدائشی طور پر حوصلہ مند (ambitious) پیدا ہوتا ہے۔ لیکن اس عارضی دنیا میں محدودیت (limitations) کا قانون ہے۔ اس لیے یہاں ہر شخص کو اس کے اپنے حوصلے کی نسبت سے کم ملتا ہے۔ تاریخ میں کوئی بھی شخص ایسا پایا نہیں جاتا، جس نے اپنے حوصلے کے بقدر دنیا کو حاصل کیا ہو۔ اس حقیقت کی بنا پر اس دنیا میں انسان کے لیے دانشمندی یہ ہے کہ وہ ــــ حقیقت پسند بنے، یعنی زیادہ چاہے، مگر کم پر راضی ہو جائے ۔ موجودہ دنیا کا یہ قانون قرآن میں اس طرح بیان کیا گیا ہے۔ اس آیت کے الفاظ یہ ہیں : وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ ۗ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ (2:155) ۔ یعنی اور ہم ضرور تم کو آزمائیں گے کچھ ڈراور بھوک سے اور مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے۔ اور ثابت قدم رہنے والوں کو خوش خبری دے دو۔

یہ آیت موجودہ دنیا کے مادی قانون کو بتا رہی ہے۔ اس دنیا میں ایسا ہوگا کہ یہاں انسان کو مختلف پہلوؤں سے نقصان کا تجربہ ہوگا۔ کسی شخص کے لیے اس دنیا میں نقصان سے بچنا ممکن نہیں، نہ صالح لوگوں کے لیے، اور نہ غیر صالح لوگوں کے لیے۔ ایسی حالت میں انسان کے لیے صرف ایک

‹ Previous page Next page › Contents of June 2019 All issues

Printed page