اس لیے ان تمام باتوں کے
الرسالہ، جون ۲۰۱۹، صفحہ ۴۹
چوائس ہے، اور وہ صبر ہے۔ صبر کوئی بزدلی کی بات نہیں۔ صبر دانش مندی کی بات ہے۔ صبر کا مطلب ہے، اپنی زندگی کی منصوبہ بندی ملے ہوئے پر کرنا، اور جو نہیں ملا اس کو خدا کی اسکیم آف تھنگس (scheme of things) کے خانے میں ڈال دینا ہے۔ یعنی جو ملا اس کو اپنا سمجھنا، اور جو نہیں ملا اس کے بارے میں اس اصول پر راضی ہو جانا کہ وہ خدا کا فیصلہ تھا، اور خدا کے فیصلے کو کوئی بدل نہیں سکتا۔
سوال
میں خدا سے کوئی قلبی تعلق محسوس نہیں کرتا، صرف جنت کی لالچ یا جہنم کا خوف مجھے عبادت کی جانب مائل کرتا ہے۔ اسی طرح میرا یہ سوال بھی ہے کیا اچھے اعمال کی بنیاد پر صرف جنت ملے گی، دنیا میں جو آرزوئیں ادھوری رہ گئی تھیں، وہ نہیں ملیں گی۔ (جہانزیب کمال، کراچی) جواب پہلے سوال کا جواب یہ ہے کہ آپ جو بات کہہ رہے ہیں وہ انسانی نفسیات کے خلاف ہے۔ اس لیے مجھے شک ہے کہ آپ نے خود اپنے آپ کو دریافت نہیں کیا۔ اللہ رب العالمین اور جنت دونوں کو ماننا ایک دوسرے سے متعلق ہیں۔ جو آدمی اللہ رب العالمین کا طالب ہوگا، وہ اسی کے ساتھ جنت کا طالب بھی بن جائے گا۔ دونوں عقیدے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ جنت کا طالب ہونا، اور خدا سے بے تعلق ہونا دو متضاد حالتیں ہیں۔ کیوں کہ جنت ایک مطلوب چیز ہے، اور اس مطلوب کو دینے والا (giver) صرف اللہ رب العالمین ہے۔ ایسی حالت میں بالکل فطری بات ہے کہ آپ دونوں کو لیں، یا دونوں کو چھوڑ دیں۔
دوسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ جنت ان افراد کے لیے ہے جو اپنے آپ کو اس کا مستحق ثابت کریں۔ جو افراد اپنے اندر جنتی شخصیت بنائے، وہی جنت میں بسائے جانے کے قابل ٹھہریں گے۔ یہ مبہم قسم کے اعمال کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ اپنی شخصیت کی تعمیر کا معاملہ ہے۔ دنیا کی آرزوئیں پوری ہوئیں یا نہیں۔ یہ اصل مسئلہ نہیں ہے، اصل مسئلہ یہ ہے کہ کسی آدمی
‹ Previous page Next page › Contents of June 2019 All issues