Al-Risala · January 2019 · page 4

شادابی لوٹ آئی

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۹، صفحہ ۴

شادابی لوٹ آئی

دہلی میں میری رہائش گاہ کے پاس ایک درخت ہے۔ اس کو میں اسپرچول ٹری (spiritual tree) کہتا ہوں۔ اس کے نیچے میں دیر تک بیٹھتا ہوں۔ اس سے مجھے روحانی سکون ملتا ہے۔ برسات کے موسم سے پہلے یہ درخت بالکل سوکھ گیا تھا۔ بظاہر وہ ٹُھٹھ (stem) دکھائی دیتا تھا۔ میں سمجھتا تھا کہ درخت کی عمر شاید ختم ہو گئی ہے، وہ شاداب ہونے والا نہیں، مگر برسات کا موسم آنے کے بعد وہ دوبارہ ہرا ہونے لگا۔ اس کی شاخوں پر ہری پتیاں نکلنے لگیں، یہاں تک کہ اگست کے آخر تک وہ دوبارہ پوری طرح ہرا بھرا ہو گیا۔ اس کی شادابی مکمل طور پر لوٹ آئی۔ یہ تمثیل کے روپ میں انسان کے لیے ایک سبق ہے۔ انسان کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ انسان کی روحانی زندگی کے لیے ضرورت ہے کہ اس کو ”پانی“ ملتا رہے۔ جو انسان اس پانی سے محروم ہو جائے، اس کی شخصیت سوکھے درخت جیسی ہو جائے گی۔ انسانی زندگی کے لیے یہ حیات بخش پانی خدائی فیضان (divine inspiration) ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ خداوند ذوالجلال سے مسلسل روحانی ربط قائم رکھے۔ اسی ربط سے اس کو شادابی ملے گی۔ یہ ربط کسی وجہ سے ٹوٹ جائے تو وہ سوکھے درخت کی مانند ہو کر رہ جائے گا۔

اللہ سے اس ربط کا ذریعہ ذکر ہے۔ خدا کو یاد کرنا کیا ہے۔ وہ کسی قسم کے اوراد کو زبان سے دہرادینے کا نام نہیں ہے، وہ مختلف حالات میں خدا کو بار بار یاد کرنا ہے۔ مثلاً مذکورہ قسم کے درخت کو آپ نے دیکھا تو اُس کے اندر آپ کو خدا کا کرشمہ نظر آیا۔ آپ نے تڑپتے ہوئے دل کے ساتھ کہا کہ خدایا، تو نے جس طرح اس درخت کو شاداب کیا ہے، اُسی طرح تو مجھے بھی شاداب کر دے۔ میں ایک سوکھا ہوا درخت ہوں، تو اپنے فیضان رحمت سے مجھ کو ایک شاداب درخت بنا دے ــ اس تجربے کا تعلق کسی ایک چیز سے نہیں، اس کا تعلق تمام چیزوں سے ہے۔ اس دنیا کی ہر چیز میں یہی ربانی غذا موجود ہے۔ دانش مند انسان وہ ہے جو اس ربانی غذا کو لیتے ہوئے اس دنیا میں زندگی گزارے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2019 All issues

Printed page