بحران کا مسئلہ
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۹، صفحہ ۵
بحران کا مسئلہ
ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ آپ اکثر آرٹ آف کرائسس مینج منٹ (the art of crisis management) کی بات کرتے ہیں۔ یہ نہایت اہم موضوع ہے۔ یہ ہر آدمی کا ایک ذاتی مسئلہ ہے۔ ہر آدمی کبھی نہ کبھی کرائسس میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ اس کا کار گر فارمولا کیا ہے۔ میں نے کہا کہ اس کا کارگر فارمولا صرف ایک ہے، اور وہ یہ ہے کہ جب زندگی میں کوئی کرائسس پیش آئے، تو اس کو خدا کے حوالے کر دیا جائے۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کی بابت، صحابی رسول، حضرت علی بن ابی طالب نے فرمایا: الخیر فيما وقع، یعنی جو کچھ پیش آئے، اس کو آدمی خدا کی طرف سے سمجھے اور اس پر راضی ہو جائے۔ اسی حقیقت کو ایک فارسی مقولے میں اس طرح بیان کیا گیا ہے :
دشمن اگر قوی است ، نگہباں قوی تر است
یعنی دشمن اگر قوی ہے، تو نگہبان اس سے بھی زیادہ قوی ہے :
حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں جو کچھ پیش آتا ہے، وہ براہِ راست طور پر خدا کی طرف سے ہوتا ہے۔ یعنی حالات کا اہتمام خدا کی طرف سے کیا جاتا ہے۔ انسان کا حصہ اُس میں صرف یہ ہے کہ وہ مثبت رسپانس (positive response) دیتا ہے، یا منفی رسپانس (negative response)۔ وہ یا تو ایک قسم کا رسپانس دے کر کریڈٹ (credit) پاتا ہے، یا دوسرے قسم کا رسپانس دے کر اپنے آپ کو ڈس کریڈٹ (discredit) کرلیتا ہے۔
ایسی حالت میں انسان کے بارے میں بہترین طریقہ یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو بے صبری سے بچائے اور بہتر انجام کے لیے خدا سے دعا کرتا رہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں صبر بھی پڑھو، اور تلاوتِ کلام پاک دونوں ایک عمل ہیں | یہ دونوں اچھے اعمال ہیں اور اس کا پڑھنا ایک عمل ہے اور دعا بھی ایک عمل۔
پیشِ ورڈ
‹ Previous page Next page › Contents of January 2019 All issues