Al-Risala · July 2019 · page 8

احساس محرومی کیوں

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۹، صفحہ ۸

ہیں۔ کیا تم یہ کہہ سکتے ہو کہ دنیا میں میری سب خواہشیں پوری ہوگئیں۔ بسترِ مرگ پر لیٹے ہوئے آدمی نے کہا کہ نہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ اب میں ایک محرومِ تمنا آدمی کی حیثیت سے مر رہا ہوں: Now I am dying as a case of unfulfilled desires. یہ کہانی صرف ایک انسان کی کہانی نہیں، بلکہ وہ ہر انسان کی کہانی ہے۔ ہر آدمی کا یہ حال ہے کہ وہ اپنی پوری عمر اس کوشش میں گزار دیتا ہے کہ اس کے دل میں جو خواہشیں چھپی ہوئی ہیں وہ پوری ہوں۔ مگر ہر انسان اس احساس کے ساتھ مر جاتا ہے کہ اس کی خواہشیں پوری نہیں ہوئیں۔ اس معاملے میں کسی بھی عورت یا مرد کا کوئی استثنا نہیں۔

دوسری طرف حیوانات کو دیکھیے ۔ حیوانات بھی انسانوں کی طرح ہوتے ہیں۔ وہ بھی کچھ دن جیتے ہیں اور پھر مر جاتے ہیں، لیکن کوئی بھی حیوان اس دنیا میں احساس محرومی کے ساتھ نہیں مرتا۔ وہ پیدا ہو کر کچھ دن جیتا ہے اور پھر اس طرح مر جاتا ہے کہ اس کو اپنی زندگی کے بارے میں کسی بھی قسم کا غم یا افسوس نہیں ہوتا۔

انسان اور حیوان میں یہ فرق کیوں ہے۔ اس کا سبب دونوں کے ذہنوں کے فرق میں پایا جاتا ہے۔ حیوان کا ذہن، انسان کے ذہن سے مکمل طور پر مختلف ہوتا ہے۔ حیوان خواہ کوئی بھی ہو، اس کا ذہن حال رُخی ذہن (present-oriented mind) ہوتا ہے۔ اس بنا پر حیوان کو جو کچھ مل جائے اُسی کو وہ کافی سمجھتا ہے۔ ہر حیوان صرف آج میں جیتا ہے۔ حیوان کے ذہن میں کل یا مستقبل کا کوئی تصور نہیں۔ اس لیے حیوان کو ملے ہوئے سے زیادہ کی کوئی فکر بھی نہیں۔

اس کے مقابلے میں انسان کا ذہن مستقبل رُخی ذہن (future-oriented mind) ہے۔ وہ آج پر قانع نہیں ہوتا، بلکہ وہ کل کے بارے میں بھی فکر مند رہتا ہے۔ اور وہ حال کے ساتھ مستقبل تک کامیاب رہنا چاہتا ہے۔ چوں کہ موجودہ دنیا میں انسان کو یہ طویل کامیابی حاصل نہیں ہوتی، اس لیے ہر انسان کا مقدر بن گیا ہے کہ وہ احساس محرومی کے ساتھ دنیا سے چلا جائے۔ تاہم یہ مسئلہ حقیقی نہیں، وہ صرف بے خبری کا نتیجہ ہے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ ہر انسان کا

‹ Previous page Next page › Contents of July 2019 All issues

Printed page