Al-Risala · July 2019 · page 9

احساس محرومی کیوں

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۹، صفحہ ۹

عرصہ حیات (life span) ابد تک پھیلا ہوا ہے۔ جب آدمی مرتا ہے تو وہ ختم نہیں ہوتا، بلکہ وہ اگلے مرحلہ حیات میں داخل ہو جاتا ہے۔ خالق کے کریشن پلان (creation plan) کے مطابق، موت سے قبل کی زندگی ٹسٹ دینے کی زندگی ہے، اور موت کے بعد کی زندگی ٹسٹ کے مطابق، اپنا انجام پانے کی زندگی۔ انسان کا ذہنی تناؤ، یا اس کا احساس محرومی صرف اس لیے ہے کہ وہ خالق کے تخلیقی نقشے کو سمجھ کر اپنی رائے نہیں بناتا۔ وہ ایسا کرتا ہے کہ جو کچھ خالق نے اس کے لیے بعد از موت مرحلۂ حیات میں مقدر کیا ہے، اس کو وہ قبل از موت مرحلہ حیات میں پالینا چاہتا ہے۔ اس مسئلے کا حل صرف ایک ہے، اور وہ یہ کہ آدمی حقیقت واقعہ کو سمجھے۔ وہ ایسا نہ کرے کہ جو کچھ اس کو کل ملنے والا ہے، وہ اس کو آج ہی پالینا چاہے۔ جو آدمی درخت لگانے کے دن پھل کا طالب بن جائے اس کے حصے میں صرف مایوسی آئے گی۔ اس کے برعکس، جو آدمی درخت کی تکمیل پر اس کا پھل لینے پر راضی ہو جائے، اس کے لیے نہ کوئی تناؤ ہے اور نہ کوئی افسوس۔ ذہنی تناؤ دراصل چاہنے اور پانے کے درمیان فرق کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اس فرق کو مٹا دیجیے اور پھر ذہنی تناؤ کا مسئلہ بھی ختم ہو جائے گا۔

* * * * *

فارسی کا ایک مثل ہے: یک من علم را، دہ من عقل می باید۔ یعنی ایک من علم کے لیے دس من عقل چاہیے ۔ یہ بات اس وقت پیدا ہوتی ہے، جب کہ آدمی بولنے سے زیادہ سوچے، وہ بولنے سے زیادہ تجزیہ (analysis) کرے، اس کے اندر پازیٹیو تھنکنگ پائی جاتی ہو، وہ نفرت اور تعصب سے خالی ہو، اس کے اندر وہ صفت ہوتی ہے، جس کو حدیث میں دعا کی شکل میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: اَللَّهُمَّ أَرِنَا الْحَقَّ حَقًّا، وَارْزُقْنَا اتِّبَاعَهُ، وَأرنا الباطل باطلا، وارزقنا اجتنابه، وَلَا تَجْعَلْهُ مُلْتَبِسًا عَلَيْنَا فَنَضِلَّ (تفسیر ابن کثیر، 1/427)۔ یعنی اے اللہ ہمیں حق کو حق کی صورت میں دکھا، اور اس کے اتباع کی توفیق دے، اور باطل کو باطل کی صورت میں دکھا، اور اس سے بچنے کی توفیق دے، اور اس کو ہمارے اوپر مبہم نہ بنا کہ ہم گمراہ ہو جائیں۔ اسی طرح یہ دعا: اَللَّهُمَّ أَرِنَا الْأَشْيَاءَ كَمَا هِيَ (تفسیر الرازی، 13/37)۔ یعنی اے اللہ، مجھے چیزوں کو اسی طرح دکھا، جیسا کہ وہ ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2019 All issues

Printed page