کامیاب زندگی کا اصول
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۹، صفحہ ۲۴
کامیاب زندگی کا اصول
26 جنوری 2003 کو میں دہلی سے احمد آباد گیا۔ راستہ میں انڈین ایئر لائنز کی فلائٹ میگزین Swagat کا شمارہ جنوری 2003 دیکھا۔ اس میں ایک مضمون کا عنوان یہ تھا ـــ خواب پورا ہوگیا: A Dream Comes True اس میں بتایا گیا تھا کہ ڈاکٹر ودیا ساگر تعلیم کے میدان میں خدمت کا جذبہ رکھتے تھے۔ ان کا شوق یہ تھا کہ نئی نسل کو تعلیم و تربیت کے ذریعہ اس قابل بنائیں کہ وہ کامیاب زندگی گزار سکیں۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے راجستھان کے شہر الور میں ایک اسکول قائم کیا۔ اس اسکول کا نام ساگر اسکول ہے۔ مضمون نگار (Aditi Bishnoi) نے اسکول کی visit کی۔ ان سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر ودیا ساگر نے کہا ـــ ہمارا مقصد یہ ہے کہ ہم اچھے انسان بنائیں، جن میں یہ صلاحیت ہو کہ وہ زندگی میں ہر صورت حال کا سامنا آسانی اور خود اعتمادی کے ساتھ کر سکیں: Our aim is to produce good human beings capable of tackling all situations in life with ease and confidence (p. 88)
میں سمجھتا ہوں کہ ایجوکیشن خواہ وہ فارمل ایجوکیشن ہو یا انفارمل ایجوکیشن، دونوں ہی کا سب سے اہم نشانہ یہی ہونا چاہیے۔ اسکول اور میڈیا دونوں کا کام یہ ہونا چاہیے کہ وہ لوگوں کے اندر وہ شعور پیدا کریں، جس کے ذریعہ وہ زندگی کے مسائل کا سامنا کامیابی کے ساتھ کر سکیں۔ اس سلسلہ میں کلیدی بات یہ ہے کہ یہ دنیا لین دین کے اصول پر قائم ہے۔ جیسا دینا ویسا پانا۔ اس دنیا میں کامیابی کا سب سے یقینی فارمولا یہ ہے کہ دوسروں کے ساتھ آپ وہی سلوک کریں جو آپ خود اپنے لیے چاہتے ہیں۔ اگر آپ ایسا کریں تو آپ کو کبھی کسی سے شکایت نہیں ہوگی۔ بزنس میں کہا جاتا ہے کہ کسٹمر فرینڈلی (customer friendly) بنو، تمہارا کاروبار ترقی کرے گا۔ جو اصول تجارت میں کامیابی کے لیے مفید ہے وہی پوری زندگی کے لیے مفید ہے ۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ ہر ایک کے لیے کامیاب زندگی کا عمومی فارمولا یہ ہے ـــ تم ہمیشہ
‹ Previous page Next page › Contents of July 2019 All issues