کامیاب فارمولا
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۹، صفحہ ۲۶
کامیاب فارمولا
بنگلور کے ڈاکٹر احمد سلطان انوکھی شخصیت کے مالک تھے۔ وہ ٹیپو سلطان کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ مگر ان کا مزاج برعکس طور پر یہ تھا کہ محبت سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ 13 دسمبر 1999 کو تقریبا ساٹھ سال کی عمر میں ان کا انتقال ہو گیا۔
وہ جب بھی دہلی آتے تو مجھ سے ملتے اور اپنے’’ کامیاب فارمولہ‘‘ کی سبق آموز مثالیں بیان کرتے۔ مثلاً ایک بار ان کے صاحبزادے رات کے وقت گاڑی لے کر باہر نکلے۔ وہ گیارہ بجے واپس آئے تو وہ گاڑی باہر کھڑی کر کے گھر میں داخل ہوئے، اور تیزی سے اپنے کمرے میں چلے گئے۔ تھوڑی دیر کے بعد دروازے پر دستک کی آواز آئی۔ ڈاکٹر احمد سلطان صاحب نے دروازہ کھولا تو دو ہندو نوجوان باہر کھڑے ہوئے تھے۔ انھوں نے غصے کے لہجے میں بتایا کہ آپ کے صاحبزادہ نے ہمارے اسکوٹر کو ٹکر ماری، اور پھر بھاگ آئے۔ ڈاکٹر صاحب نے کوئی جواب دینے کے بجائے نرمی سے کہا کہ اندر تشریف لائیے، بیٹھ کر بات ہوگی۔ دونوں اندر آگئے۔ ڈاکٹر صاحب نے ان کو ایک میز کے کنارے کرسی پر بٹھایا اور کہا کہ اس وقت سردی کا موسم ہے۔ آئیے ہم لوگ پہلے چائے پئیں پھر بات کریں گے۔ تھوڑی دیر کے بعد ان کا غصہ ختم ہو چکا تھا، دونوں خوش خوش واپس چلے گئے۔
ایک بار ایک ہندو نوجوان ان کے پاس آیا۔ اس نے رو کر کہا کہ میں ایک بڑے مسئلہ سے دوچار ہوں۔ آپ میرا مسئلہ حل کیجیے۔ اس نے بتایا کہ مجھ سے ایک غلطی ہو گئی۔ اس کے بعد میرے باپ نے مجھ کو گھر سے نکال دیا۔ چھ مہینے ہو چکے ہیں اور ابھی تک وہ راضی نہیں ہوئے۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ تم انھیں سمجھانے کی کوشش نہ کرو۔ تم خاموشی سے جاؤ، اور اپنے باپ کے قدموں پر سر رکھ کر کہو کہ اے باپ، میری غلطی کے لیے مجھے معاف کر دیجیے۔ نوجوان نے ایسا ہی کیا۔ جب وہ اپنے گھر گیا تو اس کے باپ نے اس کو ڈانٹا۔ بیٹا کوئی جواب نہ دیتے ہوئے باپ کے قدموں پر گر پڑا۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2019 All issues