Al-Risala · July 2019 · page 27

کامیاب فارمولا

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۹، صفحہ ۲۷

اس کے بعد باپ کا جذبہ پدری ابھر آیا۔ اس نے بیٹے کو اٹھا کر سینے سے لگا لیا۔ چند منٹوں کے اندر ساری بات ختم ہوگئی۔

ایک بار ڈاکٹر صاحب ایک شہر میں گئے۔ وہاں کے مسلمانوں نے بتایا کہ جلد ہی یہاں کٹر ہندوؤں کا ایک جلوس نکلنے والا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ وہ لوگ زبردست تیاری کر رہے ہیں۔ وہ اپنا جلوس مسلم محلہ سے لے جائیں گے، اور کوئی نہ کوئی بہانہ نکال کر فساد کریں گے۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ آپ لوگ میرا ایک مشورہ مان لیجیے، اور پھر یہاں کوئی فساد نہیں ہوگا۔ آپ لوگ ایسا کیجیے کہ جس دن جلوس نکلنے والا ہو، بازار سے دو درجن پھولوں کے ہار لے آئیے۔ جب ان کا جلوس آپ کی مسجد کے سامنے پہنچے تو آپ لوگ پھولوں کا ہار لے کر باہر آئیں، اور جو ہندو جلوس کے آگے آگے چل رہے ہیں، ان سے کہیں کہ ہم آپ کا سواگت کرتے ہیں، اور پھر ان کے گلے میں ایک ایک ہار ڈال دیں۔ مسلمانوں نے ایسا ہی کیا، نتیجہ یہ ہوا کہ جس دن وہاں ہندو مسلم ٹکراؤ ہونے والا تھا، وہ ان کے لیے ہندو مسلم ملاپ کا دن بن گیا۔

ایک بار بنگلور میں وہ اپنے گھر کے قریب سڑک پر چل رہے تھے۔ پیچھے سے شہر کے ایک ہندو کی گاڑی آئی، جو مسلمانوں کا مخالف سمجھا جاتا تھا۔ اس کی گاڑی ڈاکٹر صاحب سے ٹکرا گئی اور ڈاکٹر صاحب سڑک پر گر پڑے۔ ان کو کئی جگہ زخم آئے۔ مذکورہ ہندو اپنی گاڑی روک کر ڈاکٹر صاحب کے پاس آیا اور کہا کہ آپ میری گاڑی پر بیٹھ جائیں، میں آپ کو لے کر اسپتال چلتا ہوں۔ انھوں نے کہا کہ تم فوراً یہاں سے چلے جاؤ۔ یہ مسلم علاقہ ہے۔ مسلمانوں نے اگر تم کو دیکھ لیا تو وہ تم کو مارے بغیر نہیں چھوڑیں گے۔ ڈاکٹر صاحب نے سخت اصرار کر کے اس کو وہاں سے بھیج دیا۔ اس کے بعد مذکورہ ہندو ہمیشہ کے لیے ڈاکٹر صاحب کا دوست بن گیا۔

ڈاکٹر سلطان کے دل میں کسی کے لیے نفرت نہ تھی۔ وہ ہر ایک کو پیار و محبت کی نظر سے دیکھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ مذکورہ کامیاب فارمولہ اپنانے میں کامیاب ہو گئے۔ اس دنیا میں محبت سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ مگر نادان لوگ نفرت کو سب سے بڑا ہتھیار سمجھ لیتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2019 All issues

Printed page