Al-Risala · August 2019 · page 6

دعا کیسے کریں

الرسالہ، اگست ۲۰۱۹، صفحہ ۶

دوسرے سے راضی ہوجاتے ہیں۔ قادر مطلق عاجز مطلق کو اپنی آغوش میں لے لیتا ہے۔ مادی حالات، روحانی دعائیں حضرت موسیٰ علیہ السلام پر قتل کا الزام عائد ہوگیا، اور مصری سرداروں نے مشورہ کیا کہ انھیں ہلاک کر دیں، تو پیغمبر موسیٰ مصر سے مدین چلے گئے۔ مدین اس زمانہ میں، خلیج عقبہ کے مشرقی اور مغربی کناروں پر واقع علاقہ کو کہا جاتا تھا، جہاں بنی مدیان آباد تھے۔ یہ مقام فرعون مصر کی سلطنت سے باہر تھا۔ اس لیے حضرت موسیٰ نے مصر سے نکل کر مدین کا رخ کیا۔

قرآن میں ہے کہ جب آپ خوف اور اندیشہ کی حالت میں سفر کر رہے تھے تو اللہ کو یاد کرتے ہوئے آپ کی زبان سے یہ کلمہ نکلا: عَسَى رَبِّي أَنْ يَهْدِيَنِي سَوَاءَ السَّبِيلِ (28:22)۔ یعنی امید ہے کہ میرا رب مجھے ٹھیک راستہ کی طرف رہنمائی کرے گا۔

بعض مفسرین قرآن نے اس کو محض راستہ کی تلاش کے معنی میں لیا ہے۔ ایک مفسر اس کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

”یعنی ایسے راستہ پر جس سے میں بخیر یت مدین پہنچ جاؤں۔ “ یہ الفاظ اس کیفیت کی ترجمانی کے لیے بہت ناقص ہیں، جو حضرت موسیٰ کے دل میں پیدا ہوئی تھی، یہ ایک مومنانہ کلمہ ہے نہ کہ عام معنوں میں محض ایک راستہ کے مسافر کی دعا۔ حضرت موسیٰ کو اگر چہ مادی حالات نے مصر سے نکال کر مدین کے راستہ پر ڈالا تھا، مگر بندۂ مومن کا یہ حال ہوتا ہے کہ مادی واقعات کے اندر بھی اس کی زبان سے روحانی دعائیں نکلتی ہیں۔ بظاہر وہ اس زمین میں راستہ تلاش کر رہا ہوتا ہے، مگر زمین میں راستہ کی تلاش اس کے لیے دوسری دنیا کی یاد دہانی بن جاتی ہے، مگر اس کے اندر کا طوفان پکار رہا ہوتا ہے— ”خدایا! مجھے وہاں پہنچادے جہاں میں تجھ کو پاسکوں۔ کیوں کہ انسان کی حقیقی منزل وہی ہے۔ “ حضرت موسیٰ کا یہ کلمہ ایک نازک ایمانی کیفیت کا کلمہ ہے۔ اس کو سفر اور جغرافیہ کے الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2019 All issues

Printed page