دعا کیسے کریں
الرسالہ، اگست ۲۰۱۹، صفحہ ۷
جو لوگ حقیقی معنوں میں اپنے رب کو پالیں، ان کے جینے کی سطح بالکل دوسری ہو جاتی ہے۔ وہ موجودہ دنیا میں رہتے ہوئے بھی آخرت کی فضاؤں میں پہنچ جاتے ہیں۔ وہ آج کی لذتوں اور تلخیوں کو دیکھتے ہوئے کل کی جنت اور جہنم کو یاد کرنے لگتے ہیں۔ مومن حقیقت میں وہی ہے جو دنیا میں آخرت کے عالم کو دیکھ لے۔ جو حالت غیب میں رہتے ہوئے حالتِ شہود میں پہنچ جائے۔ غیر مومن پر بھی وہ دن آئے گا جب کہ وہ آخرت کی دنیا کو اپنی آنکھوں سے دیکھے گا۔ مگر یہ اس وقت ہو گا جب کہ غیب و شہود کا فرق مٹ چکا ہو گا۔ جب قیامت کی چنگھاڑ سارے پردوں کو پھاڑ دے گی۔ مگر اس وقت کا دیکھنا کسی کے کچھ کام نہ آئے گا۔ کیونکہ وہ بدلہ پانے کا وقت ہو گا نہ کہ ایمان و یقین کا ثبوت دینے کا وقت۔ رزقِ روحانی کا دسترخوان ساری کائنات مومن کے لیے رزقِ روحانی کا دستر خوان ہے۔ موجودہ دنیا کی تمام چیزوں کو اس طرح بنایا گیا ہے کہ ان کو دیکھ کر انسان عبرت حاصل کرے، ان کے ذریعہ وہ ان ربانی کیفیات کو پالے جو ان کے اندر ان لوگوں کے لیے رکھ دی گئی ہیں جو اللہ سے ڈرنے والے ہوں۔ ڈھاک (flame of the forest) ایک معمولی درخت ہے۔ مگر اس کے اوپر بے حد حسین پھول اُگتے ہیں۔ موسم خزاں کے پت جھڑ کے بعد اس کا درخت بظاہر ایک سوکھی لکڑی کی مانند، اس سے بھی زیادہ ایک سوکھی زمین پر کھڑا ہوتا ہے۔ اس کے بعد ایک خاموش انقلاب آتا ہے۔ حیرت انگیز طور پر نہایت خوش رنگ پھول اس کی شاخوں میں کھل اٹھتے ہیں۔ سوکھی لکڑی کا ایک ڈھانچہ لطیف اور رنگین پھولوں سے ڈھک جاتا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے گویا ایک محروم اور بے قیمت وجود کے لیے خدا نے خصوصی طور پر اپنی خوب صورت چھتری بھیج دی ہے۔
ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ کوئی بندہ خدا اس کو دیکھ کر کہے ’’خدایا! میں بھی ایک ڈھاک ہوں، تو چاہے تو میرے اوپر حسین پھول کھلا دے۔ میں ایک ٹھنٹھ ہوں، تو چاہے تو مجھ کو سر سبز و شاداب کر دے۔ میں ایک بے معنی وجود ہوں، تو چاہے تو میری زندگی کو معنویت سے بھر دے۔ میں جہنم کے کنارے کھڑا ہوں تو چاہے تو مجھ کو جنت میں داخل کر دے۔ ‘‘
‹ Previous page Next page › Contents of August 2019 All issues