دعوت کے کام میں استقامت
الرسالہ، اگست ۲۰۱۹، صفحہ ۱۰
دعوت کے کام میں استقامت
قرآن میں پیغمبرِ اسلام کو خطاب کرتے ہوئے ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ أُولُو الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ وَلَا تَسْتَعْجِلْ لَهُمْ كَأَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَ مَا يُوعَدُونَ لَمْ يَلْبَثُوا إِلَّا سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ بَلَاغٌ فَهُلْ يُهْلَكُ إِلَّا الْقَوْمُ الْفَاسِقُونَ (46:35)۔ یعنی پس تم صبر کرو جس طرح ہمت والے پیغمبروں نے صبر کیا۔ اور ان کے لیے جلدی نہ کرو جس دن یہ لوگ اس چیز کو دیکھیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جا رہا ہے تو گویا کہ وہ دن کی ایک گھڑی سے زیادہ نہیں رہے۔ یہ پہنچا دینا ہے۔ پس وہی لوگ برباد ہوں گے جو نافرمانی کرنے والے ہیں۔
دعوت الی اللہ کا کام ایک بے حد نازک کام ہے۔ اس کام میں داعی کو ہر قدم پر استقامت (perseverance) کا ثبوت دینا پڑتا ہے۔ استقامت سے مراد یہ نہیں ہے کہ داعی اور مدعو کے درمیان لڑائی ہو، اور آپ اس میں جم کر مقابلہ کریں۔ بلکہ اس کا مطلب ہے صبر و برداشت کی استقامت۔ دعوت الی اللہ کا کام پورا کا پورا صبر و برداشت کا امتحان ہے۔ مدعو کی بے رخی کو برداشت کرنا، مدعو کی کڑوی باتوں کو برداشت کرنا، مدعو کی گالیوں کے جواب میں ان کے لیے دعائیں کرنا، وغیرہ۔
دعوت الی اللہ کا کام ایک طرفہ صبر کا کام ہے۔ دعوتی اخلاق یہ ہے کہ مدعو آپ سے بدسلوکی کرے، اور آپ اس کے ساتھ اچھے اخلاق پر قائم رہیں۔ داعی کے اخلاق کو ایک حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: أَمَرَنِي رَبِّي أَنْ أَصِلَ مَنْ قَطَعَنِي، وَأُعْطِيَ مَنْ حَرَمَنِي، وَأَعْفُوَ عَمَّنْ ظَلَمَنِي (جامع الاصول، حدیث نمبر 9317)۔ یعنی اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں اس سے جڑوں، جو مجھے کاٹے، اور میں اس کو عطا کروں، جو مجھے محروم کرے، اور اس کو معاف کردوں، جس نے مجھ پر ظلم کیا۔
دعوت الی اللہ کا کام ایک ایسا کام ہے، جس میں مدعو کے مقابلے میں داعی کا کوئی حق نہیں
‹ Previous page Next page › Contents of August 2019 All issues