دعوت کے کام میں استقامت
الرسالہ، اگست ۲۰۱۹، صفحہ ۱۱
ہوتا، اس کی صرف ذمے داریاں ہی ذمے داریاں ہوتی ہیں۔ مثلاً پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا مشن یہ تھا کہ بت پرستی کے کلچر کو دنیا سے ختم کیا جائے، لیکن آپ نے پہلے لمبی مدت تک اس بت پرستی کے کلچر کو برداشت کیا، حتیٰ کہ آپ نے اس کو بھی برداشت کیا کہ لوگ مقدس کعبہ کو عملاً بت پرستی کا مرکز بنا دیں۔ آپ نے کعبہ میں بت پرستی کو برداشت کرتے ہوئے، اس کو آپ بطور موقع استعمال کریں۔ چنانچہ آپ نے کعبہ میں بت پرستی کے اجتماع کو اپنے لیے لمبی مدت تک بطور آڈینَس (audience) استعمال کیا۔ کعبہ میں آپ نے بت پرستی کی سرگرمیوں کو دیکھا، اور اس پر کبھی احتجاج یا ٹکراؤ نہیں کیا، وغیرہ۔
موجودہ زمانے میں دعوتی تیاری کا پہلا کام یہ ہے کہ اہل ایمان اس حقیقت کو دریافت کریں کہ ان کی حیثیت داعی کی ہے، اور دوسری اقوام کی حیثیت مدعو کی۔ موجودہ زمانے کے مسلمان ماضی کے اثر کے تحت اس حقیقت سے بے خبر ہو گئے ہیں۔ وہ اپنے آپ کو ایک قوم اور دوسرے لوگوں کو دوسری قوم سمجھتے ہیں۔ یہ دو قومی نظریہ ہے، اور دو قومی نظریہ ایک سراسر غیر اسلامی تصور ہے۔ یہ ایک مبنی بر جہالت تصور ہے۔ قرآن و حدیث میں اس کی کوئی اصل موجود نہیں۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم ایک انقلابی پیغمبر تھے۔ مگر یہ انقلاب ایک پر اسس کے روپ میں لمبی تاریخ کے دوران ظہور میں آیا، نہ کہ کسی اچانک اعلان کے ذریعے ۔ یعنی پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم بلا شبہ ایک عالمی پیغمبر تھے۔ لیکن اس کا ظہور یکبارگی نہیں ہوا، بلکہ تاریخی پر اسس کی صورت میں لمبی مدت کے دوران ہوا۔ اس تاریخی پر اسس میں صرف امتِ محمدی شامل نہیں تھی، بلکہ دوسری اقوام نے بھی اس تاریخی پر اسس میں حصہ لیا۔ اس نکتے کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ اکیسویں صدی میں امتِ محمدی کو اپنا فائنل رول ادا کرنا ہے۔ یہ فائنل رول ان کے لیے فرضِ عین کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ فائنل رول وہی ہے جس کو قرآن میں اعلیٰ سطح پر تبیینِ حق (فصلت، 41:53) کہا گیا ہے، اور حدیث میں غالباً اسی دعوتی عمل کو شہادتِ اعظم (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2938) کا درجہ دیا گیا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2019 All issues