Al-Risala · January 2019 · page 37

الرساله مشن کے متعلق بعض سوالات

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۹، صفحہ ۳۷

دیا ہے۔ گویا کہ ہمارا مشن احیاء ملت کے مجموعی کام میں ایک تتمہ (supplement) کی حیثیت رکھتا ہے۔

موجودہ حالات میں یہی چیز ممکن اور قابل عمل ہے۔ احیاء ملت کا موجودہ کام جو عالمی سطح پر انجام پا رہا ہے اس کی حیثیت ایک پراسس (process) کی ہے۔ اس پر اسس میں ساری تحریکیں اور سارے اجزائے ملی شریک ہیں۔ ہمارا مشن بھی اس پراسس کا ایک حصہ ہے۔ یہ پراسس گویا کہ ایک بلا اعلان تقسیم کار کا معاملہ ہے۔ اس پراسس کے مختلف اجزا میں سے کوئی ایک بھی ساری ملی ضرورتوں کو پورا نہیں کر سکتا اور نہ کر رہا ہے۔ ہر ایک کسی ایک پہلو سے ملت کی خدمت انجام دے رہا ہے۔ ہر ایک کو اپنی نیت اور اپنے اخلاص کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کے یہاں انعام ملے گا۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ملت کے اندر تنقید نہیں ہونی چاہیے۔ حقیقت یہ ہے کہ دوسری ضرورتوں کی طرح، تنقید بھی ملت کی ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ تنقید، حدیث رسول (سنن ابو داؤد، حدیث نمبر 4918) کے الفاظ میں الْمُؤْمِنُ مِرْآةُ الْمُؤْمِنِ (مومن مومن کے لیے آئینہ ہے) کے اصول کی تکمیل ہے۔ علمی تنقید ہمیشہ ذہنی ارتقا کا ذریعہ ہوتی ہے۔ اگر علمی تنقید کا طریقہ ختم کر دیا جائے تو اس کے نتیجے میں صرف یہی نہیں ہوگا کہ علمی تنقید باقی نہ رہے گی، بلکہ ذہنی ارتقا کا عمل رک جائے گا۔ اس کے نتیجے میں ذہنی جمود پیدا ہو جائے گا جو کسی گروہ کے لیے سم قاتل کی حیثیت رکھتا ہے۔ 2۔ ایک تعلیم یافتہ مسلمان نے کہا کہ آپ کا مشن ایک فکری مشن ہے۔ آپ کہتے ہیں کہ ہمارا نشانہ یہ ہے کہ ہم اسلام کو عصری اسلوب میں پیش کریں۔ اس طرح ہم کچھ لوگوں کے لیے اسلام کو ان کی ڈسکوری بنانا چاہتے ہیں، اور کچھ لوگوں کے لیے اسلام کو ان کی ری ڈسکوری۔ آپ کی اس فکری مہم میں مسلمانوں کا کیا درجہ ہے۔ کیا آپ مسلم اور غیر مسلم کو اس معاملے میں برابر کی حیثیت دیتے ہیں یا آپ کے نزدیک مسلمانوں کو کوئی خصوصی حیثیت حاصل ہے۔

قرآن اور حدیث کے مطابق، ہماری رائے یہ ہے کہ جہاں تک آخرت کی جزا اور سزا کا معاملہ ہے، اس میں دونوں گروہوں کو یکساں حیثیت حاصل ہے۔ یہ بات قرآن کی اس آیت سے واضح طور پر

‹ Previous page Next page › Contents of January 2019 All issues

Printed page