Al-Risala · August 2019 · page 20

I will certainly cause them all to deviate.

الرسالہ، اگست ۲۰۱۹، صفحہ ۲۰

میں مبتلا ہیں۔ وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر اس احساس میں جی رہے ہیں کہ وہ دوسری قوموں کے مقابلے میں شکست کھا گئے ہیں۔ اب ایک خطیب اسٹیج پر کھڑا ہوتا ہے اور وہ لفظوں کی دنیا میں فاتحانہ مظاہر ہ کر کے مسلمانوں کو یہ تسکین دیتا ہے کہ خواہ مقابلے کے میدان میں ہم دوسروں سے ہار چکے ہوں، لیکن اسٹیج کے اوپر ہم اُن کو شکست دے رہے ہیں۔ یہی نفسیات ہے جس کی بنا پر مسلمان ایسے خطیبوں کی باتوں پر تالیاں بجاتے ہیں اور اُس وقت خوب خوش ہوتے ہیں، جب کہ خطیب اسٹیج پر کھڑا ہو کر یہ کہتا ہے ؀ ان سب لوگوں کے اوپر بلڈوزر چلا دو:

Bulldoze them all!

* * * * * * *

حقیقت یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں وسیع پیمانہ پر یہ امکان پیدا ہوا ہے کہ آج کے انسان کو اسلام کی دعوت دی جائے۔ مگر یہ اُسی وقت ممکن ہے جب کہ انسان کو اسلام پھولوں کا ایک گلدستہ معلوم ہو نہ کہ کانٹوں کا ایک مجموعہ۔ وہ جب اسلام کا تعارف پائے تو اسے محسوس ہو کہ وہ اس کے اپنے دل کی آواز ہے۔ یہ عین وہی دین رحمت ہے جس کی تلاش میں وہ مدتوں سے سرگرداں تھا۔ اس کے لیے داعی کو مدعو کی زیادتیوں پر ایک طرفہ صبر کرنا ہے۔ یہ صبر اس لیے ہوتا ہے تا کہ داعی اور مدعو کے درمیان اعتدال کی فضا باقی رہے، وہ کسی حال میں بگڑنے نہ پائے۔ آج کا انسان مذہب امن کی تلاش میں ہے۔ ایسی حالت میں اہلِ اسلام کو یک طرفہ صبر کر کے ہر حال میں ٹکراؤ کی روش سے باز رہنا ہے، تا کہ اسلام کے مذہب امن ہونے کی حیثیت مدعو کی نظر میں مجروح نہ ہونے پائے۔ آج کا انسان دین روحانیت کی تلاش میں ہے ۔ ایسی حالت میں اسلام کے داعیوں کو آخری حد تک اس سے پر ہیز کرنا ہے کہ وہ اسلام کو اس انداز سے پیش کریں کہ جدید انسان کو وہ صرف سیاسی اور حکومتی نظام کی کوئی اسکیم نظر آئے۔ آج کا انسان اسلام کے دروازہ پر کھڑا ہوا ہے، اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ صرف اسلام کا طالب ہے۔ دعوت کا عمل اگر درست طور پر کیا جائے تو بیشتر انسان اسلام کو اپنے دل کی آواز پائیں گے۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2019 All issues

Printed page