I will certainly cause them all to deviate.
الرسالہ، اگست ۲۰۱۹، صفحہ ۱۹
موجودہ زمانے میں تقریباً عالمی پیمانے پر مسلم رہنماؤں نے یہ غلطی کی ہے کہ ہر جگہ سیاسی شکایتوں کو لے کر انھوں نے لڑائی چھیڑ دی، کہیں غیر مسلم قوموں سے اور کہیں خود اپنی سرزمین کے مسلم حکمرانوں سے۔ یہ لڑائی مسلم حکومتوں نے نہیں، بلکہ مسلم رہنماؤں نے اس کی قیادت کی۔ یہ بلاشبہ ایک غیر اسلامی فعل تھا۔ غیر مسلم قوموں سے مسلمانوں کو سیاسی، یا قومی شکایتیں لے کر لڑنا نہیں ہے، بلکہ شکایتوں کو نظر انداز کر کے پرامن طور پر اُنھیں دعوتِ حق کا مخاطب بنانا ہے۔ سیاسی اور قومی شکایتوں کی بنیاد پر مدعو قوموں سے لڑائی چھیڑ نا بلا شبہ اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔ قرآن میں واضح طور پر یہ حکم دیا گیا ہے کہ مدعو کی طرف سے پیش آنے والی ایذاؤں پر صبر کرو۔ شکایتی باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے، مثبت انداز میں انھیں حق کا پیغام پہنچاتے رہو۔
یہی معاملہ مسلم حکمرانوں کا ہے۔ علما کے اتفاق رائے کے مطابق، مسلم حکمرانوں کے خلاف خروج کرنا حرام ہے۔ اس معاملے میں مسلم رہنماؤں کے لیے کرنے کا کام صرف ایک ہے، وہ یہ کہ مسلم حکمرانوں سے سیاسی ٹکراؤ نہ کرتے ہوئے، دعوت اور تعلیم کے میدان میں پر امن جدوجہد کریں اور ایسا کرتے ہوئے مر جائیں۔ مگر موجودہ زمانے میں علما اور رہنماؤں کی بڑی اکثریت نے اس کے خلاف عمل کیا۔ اس کے نتیجے میں دعوت الی اللہ کا کام انجام نہ پاسکا، حالاں کہ وہ مسلمانوں کے اوپر فرض کے درجے میں ضروری تھا۔
مسلمانوں کا ایک اور گروہ ہے جس نے مسلم ٹکراؤ کا کام تو نہیں کیا، لیکن انھوں نے ایک اور کام کیا جو عملی ٹکراؤ سے کم نقصان دہ نہ تھا۔ یہ مناظرہ یا ڈبیٹ (debate) ہے۔ یہ لوگ متشدّدانہ ہتھیار استعمال نہیں کرتے، البتہ وہ اسٹیج پر لفظوں کے ذریعے وہی کام انجام دے رہے ہیں، جو دوسرے لوگ مقابلے کے میدان میں ہتھیاروں کے ذریعے انجام دے رہے ہیں۔ اس قسم کے لوگ اپنے کام کو دعوت کا عنوان دیے ہوئے ہیں، حالاں کہ وہ دعوت نہیں ہے، بلکہ وہ مناظرہ یا ڈبیٹ ہے، اور مناظرہ یا ڈبیٹ کا دعوت سے کوئی تعلق نہیں۔
اصل یہ ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلمان شکست خوردہ نفسیات (defeatist mentality)
‹ Previous page Next page › Contents of August 2019 All issues