اسلام دورِ جدید میں
الرسالہ، اگست ۲۰۱۹، صفحہ ۲۳
نئے عنوانات کے تحت وہی سیاسی جھگڑے دوبارہ چھیڑ دیے، جن کو خدا نے ہزار سالہ عمل کے نتیجہ میں ختم کیا تھا۔ انھوں نے اسلامی دعوت کو سیاسی اور قومی دعوت بنا کر دوبارہ اسلام کو اقتدار کا حریف بنا دیا اور کہا کہ یہی عین خدا کا پسندیدہ دین ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مدعو قوموں کے ساتھ ہر جگہ بالکل بے فائدہ قسم کی مقابلہ آرائی شروع ہو گئی، اور سارے نئے امکانات غیر استعمال شدہ حالت میں پڑے رہ گئے۔ مسلمانوں اور دیگر قوموں کے درمیان داعی اور مدعو کا رشتہ قائم نہ ہو سکا۔ کام کی ایک سو سال سے بھی زیادہ لمبی مدت مسلمانوں نے کھودی۔ یہاں تک کہ شیطان نے دوبارہ قدیم شرک کی جگہ جدید شرک (کمیونزم) کوکھڑا کردیا۔ اب کم از کم کمیونزم کے زیر تسلط علاقوں میں دوبارہ کام کرنے کی وہی مشکلات پیدا ہو گئی ہیں، جو اس سے پہلے شرک کے زیر تسلط علاقوں میں پائی جاتی تھیں۔ تاہم غیر کمیونسٹ دنیا میں اب بھی کام کے مواقع کھلے ہوئے ہیں، اور یہاں پندرہویں صدی ہجری میں اس صالح جدوجہد کا آغاز کیا جا سکتا ہے جو چودھویں صدی ہجری میں نہ کیا جا سکا۔ ******* یہود کا ذکر قرآن میں اصلا خود یہود کے لیے نہیں ہے۔ قرآن میں یہود کا لفظ بطور مثال ہے۔ یہود کی مثال سے امت محمدی کو متنبہ کیا گیا ہے کہ تم اس انجام سے اپنے آپ کو بچاؤ۔ اس کا اشارہ قرآن کی اس آیت میں ملتا ہے : (ترجمہ) کیا ایمان والوں کے لیے وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کی نصیحت کے آگے جھک جائیں۔ اور اس حق کے آگے جو نازل ہو چکا ہے، اور وہ ان لوگوں کی طرح نہ ہو جائیں جن کو پہلے کتاب دی گئی تھی، پھر ان پر لمبی مدت گزر گئی تو ان کے دل سخت ہو گئے (فَطَالَ عَلَيْهِمُ الْأَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوبُهُمْ)، اور ان میں سے اکثر لوگ نافرمان ہیں (57:16)۔ یہ کسی امت کے دور زوال کی بات ہے، جو طول آمد کے بعد فطرت کے قانون کے مطابق لازماً پیدا ہوتا ہے۔ اس دور تک پہنچنے کے بعد امت کے افراد میں ایمان کا شعور ایک رسمی شعور بن جاتا ہے۔ اس دور میں امت کے افراد کے اندر آخرت کا زندہ احساس باقی نہیں رہتا۔ اس دور تک پہنچنے کے بعد امت کے افراد میں خشیت (ڈر) کی صفت باقی نہیں رہتی۔ ان کے لیے ایمان ایک رسمی عقیدہ بن جاتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2019 All issues