Al-Risala · August 2019 · page 24

فراہی اسکول کا کنٹری بیوشن

الرسالہ، اگست ۲۰۱۹، صفحہ ۲۴

فراہی اسکول کا کنٹری بیوشن

مولانا حمید الدین فراہی (1930-1863) قرآن کی تفسیر میں ایک تفسیری اسکول کے بانی سمجھے جاتے ہیں۔ اگر چہ مولانا حمید الدین فراہی اپنی فکر کی بنیاد پر کوئی مکمل تفسیر قرآن نہ لکھ سکے۔ لیکن ان کے انقلابی فکر سے بہت سے اہل علم کو ذہنی تحریک ملی، اور انھوں نے قرآن کی تفسیر میں بہت سے قیمتی نکتے دریافت کیے ۔

مولانا حمید الدین فراہی کے منہج کو اختیار کرنے والوں میں سے ایک مولانا جلیل احسن ندوی اصلاحی (1981-1914) تھے۔ انھوں نے قرآن کی ایک آیت کی تفسیر میں ایک اشکال کو نہایت خوبی کے ساتھ دور کیا ہے۔ اس نکتے کو میں نے اپنی تفسیر تذکیر القرآن میں اس طرح درج کیا ہے: برادران یوسف روانہ ہونے لگے تو حضرت یوسف نے از راہ محبت اپنا پانی پینے کا پیالہ (جو غالباً چاندی کا تھا) اپنے بھائی بن یامین کے سامان میں رکھ دیا۔ اس کی خبر نہ بن یامین کو تھی اور نہ دربار والوں کو۔ اس کے بعد خدا کی قدرت سے ایسا ہوا کہ غلہ ناپنے کا شاہی پیمانہ (جو خود بھی قیمتی تھا) کہیں ادھر ادھر (misplace) ہو گیا۔ تلاش کے باوجود جب وہ نہیں نکلا تو کارندوں کا شبہ برادران یوسف کی طرف گیا جو ابھی یہاں سے روانہ ہوئے تھے۔ ایک کارندہ نے آواز دے کر قافلہ کو بلایا۔ پوچھ گچھ کے دوران انہوں نے بطور خود چوری کی وہ سزا تجویز کی جو شریعت ابراہیمی کی رو سے ان کے یہاں رائج تھی۔ یعنی جو سارق ہے وہ ایک سال تک مالک کے یہاں غلام بن کر رہے۔

اس کے بعد کارندے نے تلاشی شروع کی۔ اب غلہ کا پیمانہ تو ان کے یہاں نہیں ملا۔ مگر دربار کی ایک اور خاص چیز (چاندی کا پیالہ) بن یامین کے سامان سے برآمد ہوگیا۔ چنانچہ بن یامین کو حسب فیصلہ حضرت یوسف کے حوالہ کر دیا گیا۔ اگر شاہ مصر کے قانون پر فیصلے کی قرارداد ہوئی ہوتی تو حضرت یوسف اپنے بھائی کو نہ پاتے۔ کیونکہ شاہ مصر کے مروجہ قانون میں چور کی سزا یہ تھی کہ اس کو مارا جائے، اور مسروقہ چیز کی قیمت اس سے وصول کی جائے۔ اس واقعہ میں حضرت یوسف کی نیت

‹ Previous page Next page › Contents of August 2019 All issues

Printed page