فراہی اسکول کا کنٹری بیوشن
الرسالہ، اگست ۲۰۱۹، صفحہ ۲۵
شامل نہ تھی، یہ خدائی تدبیر سے ہوا اس لیے خدا نے اس کو اپنی طرف منسوب فرمايا۔ نوٹ: بن یامین کے سامان میں سقایہ رکھا گیا تھا، جس کی ضمیر ھا ہے۔ مگر شاہی کارندہ صواع تلاش کر رہا تھا جس کی ضمیر ہ “ ہے۔ اب تلاش کے بعد کارندہ نے جو چیز برآمد کی اس کے لیے قرآن میں ضمیر ”ھا“ استعمال ہوئی ہے (ثُمَّ اسْتَخْرَجَهَا مِنْ وِعَاءِ أَخِیهِ) ۔ ضمیر کا یہ فرق بتاتا ہے کہ تلاش کے بعد بن یامین کے سامان سے سقایہ نکلا تھا نہ کہ صواع ۔ ( تذکیر القرآن، سورہ یوسف: 76-69) اسی طرح مولانا فراہی کے شاگرد مولانا امین احسن اصلاحی (1997-1904) نے مولانا فراہی کے منہج تفسیر پر چلتے ہوئے قرآن کے کئی تفسیری نکتے نہایت خوبی کے ساتھ واضح کیے ہیں۔ اس کی ایک مثال یہ ہے :
لِأُنْذِرَكُمْ بِهِ وَمَنْ بَلَغَ ، عام طور پر مفسرین نے وَمَنْ بَلَغَ کو ضمیر منصوب پر معطوف مانا ہے یعنی یہ قرآن اس لیے مجھ پر وحی کیا گیا ہے کہ میں اس کے ذریعے سے تم کو اور ان سب کو بیدار و ہوشیار کروں جن تک یہ پہنچے۔ لیکن ہمارا خیال یہ ہے کہ یہ ضمیر متکلم پر معطوف ہے یعنی میں اس کے ذریعے سے تم کو خبر دار کروں اور جن کو یہ پہنچے وہ بھی اپنی اپنی جگہ پر دوسروں کو اس کے ذریعے سے خبر دار کریں۔ یہ گویا اس ذمہ داری کی یاد دہانی ہے جس کا ذکر دوسرے مقام میں یوں ہوا ہے فَلَوْلا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِنْهُمْ طَائِفَةٌ لِيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ وَلِيُنْذِرُوا قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَيْهِمْ ( توبه : 122) پس ایسا کیوں نہ ہوا کہ ان کے ہر گروہ میں سے ایک جماعت دین کا علم حاصل کرنے کے لیے اٹھتی اور تا کہ وہ اپنی قوم کو خبر دار کرتی جب کہ ان کی طرف واپس آتی۔ یہی حقیقت احادیث میں بھی واضح کی گئی ہے۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے تمام صحابہ پر انذار و تبلیغ کی ذمہ داری ڈالی اور فرمایا فليبلغ الشاهد الغائب۔ پس چاہیے کہ جو لوگ موجود ہیں وہ ان لوگوں کو پہنچا دیں جو موجود نہیں ہیں ۔ لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا میں اس امت کا جو فریضہ منصبی بیان ہوا ہے اور جس کی وضاحت ہم اس کے مقام میں کر چکے ہیں ، اس سے بھی اسی مفہوم کی تائید نکلتی ہے جس کی طرف ہم نے اشارہ کیا ہے ۔ (تدبر قرآن، سورہ الانعام: 19)
‹ Previous page Next page › Contents of August 2019 All issues