Al-Risala · August 2019 · page 27

عظیم قربانی

الرسالہ، اگست ۲۰۱۹، صفحہ ۲۷

ان کا زور پوری طرح توڑ دیں۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ اب ان جابر سلطنتوں کا زور ساری دنیا سے پوری طرح ختم ہو گیا ، اور ساری دنیا میں آزادی کا دور آ گیا۔

دوسرے دور کا انقلاب بالقوہ طور پر (potentially) پیش آ چکا ہے۔ اب اس پوٹینشل کو اویل (avail) کرنا ہے۔ یہ پوٹینشل موجودہ زمانے کا وہ انقلاب ہے ، جس کو دور مواصلات (age of communication) کہا جاتا ہے۔ اس انقلاب کی بنا پر پہلی بار تاریخ میں کسی مشن کی عالمی اشاعت کا موقع پیدا ہوا ہے۔ اس دور کو قرآن کی اشاعت کے لیے بھر پور طور پر استعمال کرنا ہے۔ حدیث میں جس واقعے کو شہادتِ اعظم (صحیح مسلم ، حدیث نمبر 2938) کہا گیا ہے ، اس سے مراد یہی گلوبل دعوہ (global dawah) ہے۔ اسی گلوبل دعوہ کو موجودہ ایج آف کمیونی کیشن میں آخری آسمانی کتاب قرآن کے حق میں استعمال کرنا ہوگا ، اور پھر انسان کے اوپر آخری حجت تمام ہو جائے گی۔

جو لوگ اس امکان کو دریافت کریں ، اور قربانی کی سطح پر اس کو بروئے کار لانے کی جدوجہد کریں ، ان کے لیے تاریخ کا عظیم ترین انعام مقدر ہے۔ یہ واقعہ حدیث کے الفاظ میں اللہ کے نزدیک شہادتِ اعظم ہوگا ، اور اس کے لیے اللہ کی طرف سے جزائے اعظم ، یعنی اعلیٰ فردوس کا فیصلہ کیا جائے گا۔

دورِ آخر کی یہ شہادتِ اعظم کسی مسلح کارروائی کے ذریعے نہیں ہوگی۔ یہ مکمل طور پر ایک پر امن واقعہ ہوگا۔ اس واقعے کو بروئے کار لانے میں پیش کرنے والے جو قربانی پیش کریں گے ، وہ گردن کاٹنا یا کٹوانا نہیں ہوگا ، یہ تمام تر ایک پر امن جدوجہد (peaceful struggle) کے ذریعے وجود میں آئے گا۔ یہ امنگوں کی قربانی (sacrifice of aspirations) کا معاملہ ہوگا۔ شہادتِ اعظم یا عالمی دعوت کا یہ واقعہ اس طرح ہوگا کہ اس کے لیے کچھ لوگ اپنے آپ کو بھر پور طور پر وقف (dedicate) کریں گے ، وہ اپنی اعلیٰ ذہنی صلاحیت کو اپنی ذات کے لیے استعمال کرنے کے بجائے دعوتی مشن کے لیے استعمال کریں گے۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2019 All issues

Printed page