دعوہ ایکسپلوزن
الرسالہ، اگست ۲۰۱۹، صفحہ ۲۸
دعوہ ایکسپلوزن
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا مشن دعوت توحید کا مشن تھا۔ آپ نے 610 عیسوی میں مکہ میں اپنا مشن شروع کیا۔ یہ زمانہ پرنٹنگ پریس سے بہت پہلے کا زمانہ تھا۔ اس زمانے میں ایسے لوگ بہت کم ہوتے تھے، جو کسی لکھی ہوئی چیز کو پڑھ سکیں۔ مورخ بلاذری نے لکھا ہے کہ رسول اللہ کے زمانے میں قریش میں صرف 17 لوگ ایسے تھے جو لکھنا پڑھنا جانتے تھے (عن أبي بكر بن عبد الله بن أبي جهم العدوى قال: دخل الإسلام وفي قريش سبعة عشر رجلا كلهم يكتب) فتوح البلدان للبلاذری، ص 453، بيروت، 1988 رسول اور اصحاب رسول اگر لکھی ہوئی کتاب کو پڑھوانے کے ذریعہ اپنا مشن پھیلاتے تو تیزی کے ساتھ اسلام کی اشاعت نہیں ہوسکتی تھی۔ اس وقت رسول اور اصحاب رسول نے جو فطری طریقہ اختیار کیا، وہ تھا پڑھ کر سنانا۔ عربوں کی زبان عربی تھی۔ سارے عرب کے لوگ عربی زبان سمجھتے، اور بولتے تھے۔ اس کے مقابلے میں ایسے لوگ بہت کم تھے، جو کتاب کو خود سے پڑھ کر دعوت کو سمجھیں، اور اس کو اختیار کریں۔ رسول اللہ نے اس زمانے میں عملی طریقہ اختیار کیا، اور وہ تھا قرآن کو پڑھ کر سنانا۔ آپ کا طریقہ یہ تھا کہ آپ عربوں کے چھوٹے اور بڑے اجتماعات میں جاتے اور لوگوں کو قرآن پڑھ کر سناتے، اس طرح بہت جلد قرآن کا پیغام سارے عرب میں پھیل گیا۔
یہی صورت حال الرسالہ کے دعوتی مشن کی ہے۔ ماہنامہ الرسالہ کی زبان اردو ہے۔ اسی طرح اس مشن کے لیے جو کتابیں تیار کی گئی ہیں، وہ بھی زیادہ تر اردو زبان میں ہیں۔ موجودہ زمانے میں ایسے لوگ نسبتاً بہت کم ہیں، جو اردو زبان میں لکھی ہوئی کتابوں کو پڑھ کر سمجھیں، لیکن دوسری طرف اس کا مثبت پہلو یہ ہے کہ اردو زبان کے بولنے اور سمجھنے والے دنیا کے اکثر ملکوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ ایسے لوگوں کی تعداد بہت زیادہ ہے، جو اگر چہ اردو کتاب نہیں پڑھ سکتے، لیکن وہ سن کر بخوبی طور پر اردو زبان کو سمجھ سکتے ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2019 All issues