الرساله مشن کے متعلق بعض سوالات
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۹، صفحہ ۳۹
اس معاملے میں مسلمان ایک مستثنیٰ حیثیت کا حامل ہوتا ہے۔ مسلمان کے لیے یہ ممکن ہوتا ہے کہ وہ مخالفانہ احساس سے خالی ہو کر اسلام کا مطالعہ کر سکے۔ اس طرح ایک مسلمان کو اسلام کے مطالعے کے لیے ایک موافق نقطۂ آغاز مل جاتا ہے۔ وہ اس پوزیشن میں ہوتا ہے کہ معتدل ذہن کے ساتھ اسلام کا مطالعہ کرے اور کسی قسم کی نفسیاتی رکاوٹ کے بغیر اسلام کی صداقت اس کے ذہن میں بیٹھتی چلی جائے۔ 3۔ ایک تعلیم یافتہ مسلمان نے کہا کہ الرسالہ کا انداز غیر معتدل انداز ہے۔ آپ اُس میں ہمیشہ مسلمانوں کو صبر اور تقویٰ کی "نصیحت" کرتے ہیں۔ مسلمانوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں اور سازشوں پر آپ کوئی تبصرہ نہیں کرتے۔ جب کہ دوسرے مسلم اہل علم اور رہنما، اعتدال کا طریقہ اپناتے ہوئے ہمیشہ دونوں فریقوں کی غلطی کو بتاتے ہیں۔
میں نے کہا کہ الرسالہ کا انداز قرآنی انداز ہے، وہ ہر گز غیر معتدل انداز نہیں۔ اس معاملے کی وضاحت کرتے ہوئے میں نے غزوہ احد (3 ہجری) کی مثال دی۔ میں نے کہا کہ مشرکین نے مکہ سے چل کر چار سو کلومیٹر کا سفر طے کیا۔ اور یک طرفہ طور پر انھوں نے مدینہ میں مقیم مسلمانوں پر جارحانہ اقدام کر کے انھیں جنگ کرنے پر مجبور کر دیا۔ اس جنگ میں اپنی ایک غلطی کی وجہ سے مسلمانوں کو شکست ہوئی۔ ستر صحابہ شہید ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، مخالفین کے پتھراؤ کی وجہ سے شدید طور پر زخمی ہو گئے۔
اس کے باوجود قرآن میں جب اس واقعہ پر تبصرہ نازل ہوا تو اُس میں یک طرفہ طور پر ساری ذمہ داری مسلمانوں پر ڈالتے ہوئے کہا گیا: حَتَّىٰ إِذَا فَشِلْتُمْ وَتَنَازَعْتُمْ فِي الْأَمْرِ وَعَصَيْتُم مِّن بَعْدِ مَا أَرَاكُم مَّا تُحِبُّونَ (3:152)۔ یعنی جب تم خود کمزور پڑ گئے اور تم نے کام میں جھگڑا کیا اور تم کہنے پر نہ چلے جب کہ اللہ نے تم کو وہ چیز دکھادی تھی جو تم چاہتے تھے۔ میں نے کہا کہ آپ کے نزدیک ایسے موقع پر معتدل انداز یہ تھا کہ دونوں فریقوں پر تبصرہ کیا جاتا۔ پہلے مشرکین مکہ کے جارحانہ اقدام کی کھلے طور پر مذمت کی جاتی اور اُس کے بعد مسلمانوں کو نصیحت کرتے ہوئے اُن کی کمزوری بتائی جاتی۔ حالاں کہ قرآن کے اس تبصرے میں ایسا انداز
‹ Previous page Next page › Contents of January 2019 All issues