دے سکتے ہو۔ “
الرسالہ، اگست ۲۰۱۹، صفحہ ۳۱
دے سکتے ہو۔ “
یہ موت ہر آدمی کا پیچھا کر رہی ہے۔ بچپن اور جوانی کی عمر میں آدمی اسے بھولا رہتا ہے۔ مگر بالآخر تقدیری فیصلہ غالب آتا ہے۔ بڑھاپے میں جب اس کی طاقتیں گھٹ جاتی ہیں، تب اسے محسوس ہوتا ہے کہ اب بہر حال کچھ دنوں کے بعد وہ مر جائے گا۔ اس وقت وہ مجبور ہوتا ہے کہ سوچے کہ ”مرنے کے بعد کیا ہونے والا ہے“۔ اسے تلاش ہوتی ہے کہ وہ کوئی امید کی کرن پالے جو موت کے بعد آنے والے حالات میں اس کو روشنی دے سکے۔
یہ زندگی کا اہم ترین سوال ہے، اس سے باخبر کرنے کے لیے اللہ نے اپنے تمام پیغمبر بھیجے۔ مگر آج جو لوگ پیغمبر کے وارث ہیں، وہ خود بھی شاید اس حقیقت کو بھول چکے ہیں۔ پھر ان سے کیا امید کی جائے کہ وہ دوسروں کو اس حقیقت سے باخبر کر سکیں گے۔
موت کے بعد انسان کے ساتھ کیا پیش آنا ہے، اسی کو بتانے کے لیے قرآن بھیجا گیا ہے۔ حاملین قرآن کی سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ دنیا کو اس حقیقت سے باخبر کریں۔ اگر وہ اس کام کو نہ کریں تو قیامت کے دن جب قوموں کا حساب ہوگا وہ اس بات کے مجرم قرار پائیں گے کہ ان کے پاس انسانیت کے لیے اہم ترین خبر تھی مگر انھوں نے لوگوں کو اس سے آگاہ نہ کیا۔ * * * * * * * حدیث میں آیا ہے کہ تم زمین والوں پر رحم کرو۔ آسمان والا تم پر رحم کرے گا (اِرْحَمُوْا مَنْ فِي الْأَرْضِ يَرْحَمْكُمْ مَّنْ فِي السَّمَاءِ) سنن الترمذی، حدیث نمبر 1924۔ اس رحمت کا تعلق صرف اخلاقی معاملات سے نہیں ہے۔ اس سے بھی زیادہ بڑھ کر اس کا تعلق دعوت الی اللہ سے ہے، یعنی لوگوں کو بتانا کہ وہ کون سی تدبیر ہے، جس کو اختیار کر کے وہ آخرت کی پکڑ سے بچ سکتے ہیں اور اللہ کی ابدی نعمتوں میں اپنا حصہ پا سکتے ہیں۔ اس واقعہ کی خبر بلا شبہ لوگوں کے حق میں رحمت و شفقت کا سب سے بڑا معاملہ ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2019 All issues