دنیا انتظار میں ہے
الرسالہ، اگست ۲۰۱۹، صفحہ ۳۰
دنیا انتظار میں ہے
جولائی 1976 کی چھ تاریخ تھی اور شام 6 بجے کا وقت ۔ میں شہر کی ایک سڑک سے گزر رہا تھا۔ اتنے میں ایک اجنبی دکان دار نے آواز دے کر مجھے روکا۔
”مرنے کے بعد کیا آدمی پھر اسی جیون میں واپس آتا ہے“ اس نے پنجابی زبان میں رہنے کے بعد کیا اور اس پر اس زمین میں واپسی ہوتی ہے سوال کیا۔
’’نہیں‘‘ ’’پھر کہاں جاتا ہے‘‘ ’’اپنے مالک کے پاس چلا جاتا ہے حساب دینے کے لیے‘‘۔
’’اور اس کے بعد‘‘ ’’دوسری دنیا میں اس کو آرام ملے گا یا عذاب‘‘ اس کے بعد نرک میں جاتا ہے یا سورگ میں۔ “ یہ جواب سن کر بوڑھے دکان دار نے اپنی سیٹ پر پہلو بدلا اور خاموش ہو گیا۔ اس کا چہرہ بتا رہا تھا کہ وہ کسی گہری سوچ میں پڑ گیا ہے۔ مجھے محسوس ہوا کہ اب کچھ اور بولنا اس کی سوچ میں خلل ڈالنا ہوگا۔ میں چند منٹ تک اس کے اگلے سوال کا منتظر رہا اور اس کے بعد آگے بڑھ گیا۔
اسی قسم کا ایک واقعہ مشہور امریکی مشنری بلی گراہم نے لکھا ہے۔ وہ اپنی کتاب ”دی سیکرٹ آف ہیپی نس“ میں لکھتا ہے کہ دنیا کے ایک عظیم سیاست داں نے ایک بار اس سے کہا: I am an old man. Life has lost all meaning. I am ready to ”میں بوڑھا ہو چکا ہوں۔ زندگی نے اپنی تمام معنویت کھودی ہے۔ عنقریب میں نامعلوم دنیا کی طرف ایک فیصلہ کن چھلانگ لگانے والا ہوں۔ اے نوجوان شخص! کیا تم مجھے امید کی کوئی کرن
‹ Previous page Next page › Contents of August 2019 All issues