Al-Risala · September 2019 · page 4

خدا کا منصوبہ تخلیق

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۹، صفحہ ۴

خدا کا منصوبہ تخلیق

اللہ نے ایک معیاری دنیا بنائی۔ ہر اعتبار سے یہ ایک پرفیکٹ دنیا تھی۔ اللہ نے یہ مقدر کیا کہ اس معیاری دنیا میں ایسے افراد بسائے جائیں جو ہر اعتبار سے معیاری انسان ہوں۔ اس مقصد کے لیے اللہ نے انسان کو پیدا کر کے اس کو سیارہ ارض پر آباد کیا۔ اس نے انسان کو مکمل آزادی عطا کی۔ موجودہ دنیا اس منصوبے کے لیے ایک سلیکشن گراؤنڈ کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہاں یہ دیکھا جارہا ہے کہ کون شخص اپنی آزادی کا صحیح استعمال کرتا ہے اور کون شخص اپنی آزادی کا غلط استعمال کرتا ہے۔ تاریخ کے خاتمے پر یہ ہوگا کہ آزادی کا غلط استعمال کرنے والے افراد ریجیکٹ کر دیے جائیں گے، اور جن افراد نے اپنی آزادی کا صحیح استعمال کیا، اُن کو منتخب کر کے جنت میں آباد کر دیا جائے گا۔ جنت کے تصور کو کچھ لوگ انسانی تمناؤں کی خوب صورت نظریہ سازی (beautiful idealization of human wishes) کا نام دیتے ہیں۔ مگر زیادہ صحیح یہ ہے کہ جنت کے تصور کو انسانی تاریخ کی خوب صورت تعبیر (beautiful interpretation of human history) کہا جائے۔

خدا کا تخلیقی منصوبہ

خدا کے اس تخلیقی منصوبے کے آغاز کا ذکر قرآن کی سورہ البقرہ میں آیا ہے۔ ان آیات کا ترجمہ یہ ہے : ”اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔ فرشتوں نے کہا: کیا تو زمین میں ایسے لوگوں کو بسائے گا جو اس میں فساد برپا کریں اور خون بہائیں، اور ہم تیری حمد کرتے ہیں اور تیری پاکی بیان کرتے ہیں۔ اللہ نے کہا: میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔ اور اللہ نے سکھا دیے آدم کو سارے نام، پھر ان فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور کہا کہ اگر تم سچے ہو تو مجھے ان لوگوں کے نام بتاؤ۔ فرشتوں نے کہا کہ تو پاک ہے۔ ہم تو وہی جانتے ہیں جو تو نے ہم کو بتایا۔ بے شک تو ہی علم والا اور حکمت والا ہے۔ “ (30-32:2)

اصل یہ ہے کہ فرشتے پورے انسانی مجموعے کو دیکھ کر اپنی رائے بنا رہے تھے۔ اللہ نے

‹ Previous page Next page › Contents of September 2019 All issues

Printed page