Al-Risala · September 2019 · page 5

خدا کا تخلیقی منصوبہ

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۹، صفحہ ۵

ایک مظاہرہ کے ذریعے واضح کیا کہ خدائی تخلیق کا نشانہ مجموعہ نہیں ہے، بلکہ افراد ہیں۔ مجموعے کی سطح پر اگر چہ بگاڑ آئے گا، لیکن افراد کی سطح پر ہمیشہ اچھے افراد وجود میں آتے رہیں گے۔ خدا کے تخلیقی منصوبے کے مطابق ، موجودہ دنیا ایک سلیکشن گراؤنڈ (selection ground) ہے، یعنی پورے مجموعے میں سے مطلوب افراد کا انتخاب کرنا۔ تخلیق کا نشانہ یہ نہیں ہے کہ انسان اِسی سیارہ ارض پر معیاری نظام بنائے، بلکہ تخلیق کا نشانہ یہ ہے کہ ہر دور اور ہر نسل میں سے اُن افراد کو منتخب کیا جائے، جو کامل آزادی کے با وجود اپنے آپ کو بطور خود ضابطہ خداوندی کا پابند بنا لیں۔ معیاری افراد کا انتخاب خدا کے اِس منصوبۂ تخلیق کے مطابق، خالق نے موجودہ دنیا کو اس لیے نہیں بنایا ہے کہ یہاں مجموعے کی سطح پر معیاری نظام (ideal system) بنایا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دنیا امتحان کے لیے بنائی گئی ہے۔ یہاں ہر انسان کو کامل آزادی دی گئی ہے، وہ چاہے مصلح بن کر رہے یا مفسد بن کر رہے ۔ اس لیے یہاں مجموعہ کی سطح پر کبھی معیاری نظام نہیں بن سکتا۔ معیاری نظام کا مقام صرف جنت ہے، اور وہ جنت ہی میں بنے گا۔

موجودہ دنیا دراصل معیاری افراد کا انتخابی میدان (selection ground) ہے۔ یہاں ہر نسل سے معیاری افراد کا انتخاب کیا جارہا ہے۔ مثلاً آدم کی پہلی نسل میں قابیل، قابلِ رد تھا اور ہابیل، قابل قبول ۔ یہی معاملہ پوری تاریخ میں پوری طرح جاری ہے۔ ہر دور میں اور ہر نسل میں خدا معیاری افراد کو منتخب کر رہا ہے اور غیر معیاری افراد کو رد کر رہا ہے۔ ردّ و قبول کے اِسی معاملے کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: ثُلَّةٌ مِّنَ الْأَوَّلِينَ، وَثُلَّةٌ مِّنَ الْآخِرِينَ (40-56: 39)۔ یعنی اگلوں میں سے ایک بڑا گروہ، اور پچھلوں میں سے بھی ایک بڑا گروہ۔

قابل قبول اور قابلِ رد انسانوں کی یہ مطلوب فہرست جب مکمل ہو جائے گی تو اس کے بعد خالق کائنات موجودہ دنیا کو ختم کر کے ایک اور دنیا بنائے گا، جہاں وہ معیاری دنیا ہوگی، جس کو جنت کہا جاتا ہے۔ قابلِ قبول افراد اس جنت میں بسا دیے جائیں گے، جہاں وہ ابد تک خوف و حزن سے

‹ Previous page Next page › Contents of September 2019 All issues

Printed page