جنت کارول
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۹، صفحہ ۸
جنت کارول
جنت کے عقیدے کا انسان کی زندگی میں بہت بڑا رول ہے۔ انسان کے اندرانا (ego) کا جذبہ بہت زیادہ طاقت ور ہے۔ یہ جذبہ انسان کی ساری سرگرمیوں میں کام کرتا ہے۔ انسان کے لیے سب سے بڑی تباہ کن بات یہ ہے کہ وہ انا (ego) کا شکار ہو جائے۔ اس میں بھی سب سے زیادہ خطرناک چیز ہے، مخفی ایگو (hidden ego)۔ مخفی ایگو سے انسان خود اکثر بے خبر رہتا ہے کہ وہ ایگو کا شکار ہو گیا ہے۔ یہی انسان کے لیے سب سے زیادہ خطر ناک مسئلہ ہے۔ جنت کا عقیدہ اپنی صحیح صورت میں اس کا روک ہے۔ جنت کا عقیدہ واحد طاقت و محرک ہے، جو انسان کو ایگوئسٹ بننے سے بچاتا ہے۔ جنت کے طاقت ور عقیدے کے بغیر کوئی انسان ایگو کے فتنے سے بچ نہیں سکتا۔ ایگو کے فتنے کا سب سے زیادہ مہلک پہلو یہ ہے کہ انسان اپنے ہر عمل کا ایک جواز (justification) تلاش کر لیتا ہے۔ وہ غلط کام بھی کرتا ہے تو اس کا ایک مبرر ( justified reason) اس کے پاس ہوتا ہے۔ وہ غلط کام کو اس یقین کے ساتھ کرتا ہے کہ وہ ایک درست کام ہے۔ یہ ایک خود فریبی کی بدترین صورت ہے۔
صحیح اور درست کام کی سب سے زیادہ واضح پہچان یہ ہے کہ جو عمل "ظلم کے خلاف" آواز کے نام پر کیا جائے، وہ بلا شبہ ایک غلط کام ہے۔ ایسا کام زندگی کے بگاڑ میں صرف اضافہ کرتا ہے، وہ اس میں کمی کرنے کا سبب نہیں بنتا۔ اس کا اصل محرک ایگو ہوتا ہے۔ اس کے برعکس، صحیح کام وہ ہے، جو مثبت گول (positive goal) کو لے کر کیا جائے، جس کا مقصد کسی مفروضہ ظلم کو مٹانا نہ ہو، بلکہ لوگوں کے اندر مثبت سوچ کو فروغ دینا ہو۔ جب آدمی جنت کے راستے پر چلتا ہے، اگر وہ سنجیدہ ہے، تو اس کا ضمیر اس کو بتائے گا کہ یہ راستہ تم کو جنت سے محروم کر دینے والا ہے۔ یعنی جنت کا رسک لے کر تم اس راستے پر آگے بڑھ سکتے ہو۔ ایگوئسٹ آدمی ضمیر کی بات نہیں سنے گا، لیکن جو آدمی جنت کے معاملے میں سنجیدہ ہو، وہ ضرور اس کو سنے گا ۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2019 All issues