جنت کس کے لیے
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۹، صفحہ ۹
جنت کس کے لیے
اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ جنت کس کے لیے ہے۔ جنت کا مطلب ہے ابدی عیش (eternal pleasure) کی زندگی۔ یہ ایک بے حد انوکھا تصور ہے۔ میں بہت دنوں سے یہ سوچتا تھا کہ آخر ابدیت کی یہ نعمت کس کو دی جائے گی۔ آخر کار میں نے ایک واقعہ سنا۔ اس سے میری سمجھ میں آیا کہ ابدی جنت کا استحقاق کس کے لیے ہوگا۔
دلی میں ایک تاجر ہیں، جو اب بوڑھے ہو چکے ہیں۔ انھوں نے بزنس میں کافی دولت کمائی۔ مگر ان کا کوئی وارث نہیں تھا، جس کو وہ اپنی دولت دیں۔ آخر کار انھوں نے ایک انوکھا واقعہ کیا۔ ان کا ایک ملازم تھا، جو ساری عمر ان کی خدمت کرتا رہا۔ وہ بے حد وفادار تھا۔ زندگی کے ہر تجربے سے معلوم ہوا کہ وہ ملازم آخری حد تک دل و جان سے ان کا وفادار (loyal) ہے۔ مذکورہ تاجر نے یہ کیا کہ اپنی ساری دولت اس ملازم کو دے دی، اور بڑھاپے کی عمر میں خود بھی جا کر اسی کے گھر میں اس کے ساتھ رہنے لگا۔ اب یہ حال ہے کہ اس کی پوری فیملی دل و جان سے اس تاجر کی خدمت گزاری کر رہی ہے۔ اس قصے کو بتاتے ہوئے اس تاجر نے کہا کہ یہ آدمی میرا اتنا زیادہ وفادار ہے کہ ویسا کوئی اپنا بیٹا بھی نہیں ہو سکتا۔ وہ بچپن کی عمر سے میرے ساتھ ہے، اور کبھی اس کی وفاداری میں مجھے شک نہیں ہوا۔ اب جب کہ میں بوڑھا ہو چکا ہوں، یہ آدمی دل و جان سے میری وفاداری کا حق ادا کر رہا ہے۔ اس لیے میں نے اپنا سب کچھ اس آدمی کو دے دیا۔ اب میں اتنا زیادہ خوش ہوں کہ شاید ہی کوئی آدمی اتنا زیادہ خوشی کی زندگی گزارتا ہو۔ تادمِ تحریر (31 جنوری 2019) دونوں زندہ ہیں۔ مذکورہ تاجر پہلے دلی کے نظام الدین ویسٹ کے علاقے میں رہتے تھے، اور اب دونوں آگرہ کے مضافات (suburb) میں ایک گھر میں ایک ساتھ رہتے ہیں۔
اس واقعے کو جاننے کے بعد مجھے ایک حدیث یاد آئی: خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ عَلَى صُورَتِهِ (صحيح البخاری، حدیث نمبر 6227)۔ یعنی اللہ نے آدم کو اپنی صورت پر پیدا کیا۔ اس حدیث کو لے کر میں
‹ Previous page Next page › Contents of September 2019 All issues