Al-Risala · September 2019 · page 10

جنت، خدا کا پڑوس

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۹، صفحہ ۱۰

نے سوچا تو میری سمجھ میں آیا کہ اس کا مطلب شاید یہ ہے کہ انسان کا مطالعہ کرکے کوئی شخص اللہ کو دریافت کرسکتاہے۔ اللہ کو شاید سب سے زیادہ جو چیز پسند ہے، وہ یہ ہے کہ اس کا کوئی بندہ ایسا ہو، جو دل و جان سے اس کا وفادار (loyal) ہو۔ کسی بندے کے بارے میں اگر ثابت ہو جائے کہ وہ آخری حد تک اللہ کا کامل وفادار ہے، تو ایسا بندہ اللہ کو اتنا زیادہ محبوب بن جاتا ہے کہ اللہ چاہتا ہے کہ وہ ایسے بندے کو سب کچھ دے دے، حتیٰ کہ ابدی جنت (eternal paradise) بھی۔ کامل وفاداری کسی انسان کی سب سے بڑی صفت (quality) ہے۔ جو آدمی حقیقی معنیٰ (real sense) میں اپنے بارے میں یہ ثابت کردے کہ وہ اپنے رب کا کامل وفادار ہے، وہ دل و جان سے پورے معنیٰ میں اللہ والا انسان ہے۔ یہی وہ کامل وفادار بندہ ہے، جس کے انجام کے بارے میں قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں: فِي مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلِيكٍ مُقْتَدِرٍ (54:55)۔ یعنی وہ بیٹھے ہوں گے سچی بیٹھک میں ، قدرت والے بادشاہ کے پاس۔

جنت، خدا کا پڑوس

فرعون کی بیوی آسیہ ایمان لائی تو فرعون غصہ ہو گیا۔ اس نے کہا کہ میں تم کو مار ڈالوں گا، تم کیوں موسیٰ پر ایمان لائیں۔ اس وقت اس خاتون نے کہا تم جو چاہے کر و اب میں تو ایمان لاچکی ہوں۔ قرآن میں ہے کہ اس وقت آسیہ نے ایک دعا کی تھی۔ اس دعا کے الفاظ یہ ہیں: رَبِّ ابْنِ لِي عِنْدَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ (66:11)۔ یعنی اے میرے رب، میرے لیے اپنے پاس، جنت میں ایک گھر بنادے۔ اس واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ توحید سے جنت جڑی ہوئی ہے، اور یہ کہ جنت خدا کے پڑوس کا نام ہے۔

خدا رخی زندگی

خدا رخی زندگی یہ ہے کہ آدمی اللہ رب العالمین کو اس طرح دریافت کرے کہ وہ اس کی زندگی میں شامل ہو جائے۔ وہ خدا کی یاد کے ساتھ سوئے، اور خدا کی یاد کے ساتھ جاگے ۔ وہ خدا کی دنیا میں خدا والا بن کر رہے۔ دنیا کی ہر چیز اس کو خدا کی یاد دلانے والی بن جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2019 All issues

Printed page